خاخام نے اسرائیلی فوجی حکومت اور نتن یاہو کے خلاف اعلان جنگ کردیا

IQNA

خاخام نے اسرائیلی فوجی حکومت اور نتن یاہو کے خلاف اعلان جنگ کردیا

7:17 - June 06, 2026
خبر کا کوڈ: 3520297
ایکنا: ایک معروف اسرائیلی ربی نے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ ان لوگوں کے خلاف لڑیں گے جو اسرائیل کے اندر ہمارے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

ایکنا نیوز-  روشیا الیوم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حریدی یہودیوں کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے حالیہ بیانات اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی اندرونی کشمکش کو نمایاں کرتے ہیں۔

حریدی لیتھوانیائی مکتبِ فکر کے ممتاز رہنما Moshe Hillel Hirsch نے مقبوضہ بیت المقدس میں دینی مدارس کے طلبہ کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حریدی معاشرہ اس وقت ایک حقیقی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: میں ایران کے ساتھ جنگ کی بات نہیں کر رہا بلکہ ان لوگوں کے خلاف جنگ کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم سے برسرِ پیکار ہیں۔

ربی ہرش نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی افراد پر لازمی فوجی خدمت مسلط کرنا اس چیز کے لیے براہِ راست خطرہ ہے جسے وہ "تورات کی دنیا" قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حریدی برادری کے مخالفین اس دینی نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنے پیروکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ دینی مدارس کے طلبہ پر فوجی خدمت مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں۔

انہوں نے فوجی خدمت سے استثنا کے قانون سے متعلق بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے حامی تقریباً نصف حریدی نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنا چاہتے ہیں، لیکن اصل مقصد حریدی معاشرے کے طرزِ زندگی کو تبدیل کرنا اور اس کے مذہبی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں مذہبی جماعت United Torah Judaism کے رکن یاکیو اشرنے اس بحران کو "مذہبی جنگ" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حریدی یہودی کسی مسلح ملیشیا میں تبدیل نہیں ہوں گے، تاہم وہ اپنی برادری کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے مقابلے میں اپنے مذہبی قائدین کی ہدایات پر عمل کریں گے۔

یہ بیانات اسرائیلی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بحران ایسے وقت میں جاری ہے جب لازمی فوجی خدمت سے متعلق قانون پر دو سال سے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ حریدی مذہبی قیادت کی جانب سے کنیسٹ کی خارجہ اور سلامتی کمیٹی کے اس مجوزہ منصوبے کی مخالفت ہے جس کے تحت مذہبی یہودیوں کو فوجی خدمت کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔/

 

4356416

نظرات بینندگان
captcha