
ایکنا نیوز- سترہ سالہ لبنانی طالبہ «غدیر خلیل غنام» نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا : گیارہ سال کی عمر میں قرآن کا حفظ شروع اور چار سال میں مکمل کیا۔
لبنانی مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی حافظہ کا کہنا تھا: جوں جوں قرآن کا مطالعہ کرتی ہوں محسوس ہوتا ہے کہ حافظہ اور دماغ کی تیزی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
غدیر خلیل غنام لبنانی شهر «صور» کے اسکول میں قرآنی ٹیچر ہے اور خود بھی تفسیر کی خصوصی کلاسز میں شرکت کرتی ہے۔
انہوں نے ایرانی مقابلوں کو تجربے میں اضافہ اور دیگر قاریوں سے آشنائی کا بہترین فرصت قرار دیا.
غدیر کا کہنا تھا کہ قرآن کے مطالعے سے انسان شناسی ، درست اخلاق اور مشکلات میں صبر کرنا انسان سیکھتا ہے۔
لبنان کی ایک اور نابینا حافظہ«فاطمه یونس» نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اب تک لبنان میں نابیناوں کا مقابلہ نہیں ہوا ہے اور ایران کا یہ کاوش قابل تعریف ہے۔
انکا کہنا تھا : اکثر مقابلوں میں شرکت اور پوزیشن حاصل کرچکی ہوں مگر بین الاقوامی سطح پر یہ پہلا موقع ہے.
لبنانی حافظہ نے قرآن کو انسان ساز قرار دیتے ہویے آیت ۴۶ سوره حج «أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُور» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا :
قرآن بصیرت پر تاکید کرتا ہے اور دل کی آنکھ سر کی آنکھ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔
فاطمه یونس نے مکمل حفظ قرآن اور تعلیمات قرآن کی ترویج کو اپنی زندگی کا اہم ہدف قرار دیا۔