
ایکنا نیوز- تہران کے بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شامل شام کے نابینا حافظ قرآن «طارق بنزیاد الجزار» نے قرآنی مقابلوں کے اعلی معیار کو قابل قرار دیتے ہوئے کہا :
میں بچین سے بصارت سے محروم ہوا اور جلد ہی میری باطنیں آنکھیں کھولی اور میں نے قرآن کے سایے میں سکون و اطمینان حاصل کیا
انکا کہنا تھا: چھ یا سات سال کی عمر سے والدین کے کہنے پر قرآن کا حفظ شروع کیا اور تین سال کی مدت میں یہ کام مکمل ہوا
مصری استاد الحصری، حزیفی، منشاوی کی تلاوت کے دلدادہ حافظ نے انکی تلاوتیں سن کر قرآن مجید حفظ کیا ہے۔
الجزار نے حفظ قرآن کو آسان قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسے رکاوٹ ہیں ورنہ حفظ میں خدا خاص مدد کرتا ہے
انہوں نے شامی حکومت کے قرآنی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں حکومت ہمیشہ مدد کرتی آرہی ہے
طارق الجزار نے کہا: حفظ و تفسیر کے قرآنی مراکز «الاسد» کے مختلف شعبے مساجد اور اسلامی سنٹروں میں کام کررہے ہیں۔
الجزار نے ایران میں بصارت سے محروم قاریوں کے مقابلے کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا : منتظمین کے شایستہ رویے ناقابل فراموش ہیں اور مقابلے کا عنوان «ایک کتاب، ایک امت» رکھ کر ایران نے ثابت کردیا کہ وہ وحدت اسلامی کا سب سے بڑا داعی ہے۔
انہوں نے شام میں قرآنی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سخت حالات میں بھی اسد کے زیر تسلط علاقوں میں شاندار قرآنی سرگرمیاں جاری ہیں
الجزار نے گفتگو کے آخر میں کہا کہ انسان کی باطنی آنکھ بہت اہم ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ تمام شعبوں میں قرآنی ہدایات پر چل کر ہی کامیابی حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔