
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «المصریون» کے مطابق مڈغاسکر کی وزارت تعلیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں میں معیاری سہولیات کی عدم موجودگی پر انکو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مڈغاسکر کے وزیر تعلیم «بول ربری» نے ریڈیو سے گفتگو میں کہا : مذکورہ مدارس اور ادارے این جی اوز مراکز کے طور پر رجسٹرڈ کیا گیا ہے مگر اب ان میں قرآنی کلاسز منعقد ہورہی ہیں۔
انکا کہنا تھا: مذکورہ اداروں پر پابندی کے حوالے سے مسلم رہنماوں سے مذاکرات جاری ہیں اور اس سمیسٹر کے خاتمے پر ان کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمہوریہ مڈغاسکر کی مجموعی آبادی میں دو لاکھ بیس ہزار مسلمان آباد ہیں اور ماہرین کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔