IQNA

19:10 - July 26, 2018
خبر کا کوڈ: 3504878
بین الاقوامی گروپ: مدینہ کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول قائم کیے تھے، ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر لے کر آئیں۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعتیں جس حلقے کو کہیں گی وہی حلقے کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ نے انہیں موقع فراہم کیا ہے وہ اپنے خواب کو پورا کر سکیں، پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے تاہم اب دوسرے مرحلے میں اپنے منشور پر عمل درآمد کریں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں نے خود اس ملک کو ترقی کرتا اور نیچے آتے دیکھا، لہٰذا میں چاہتا تھا کہ پاکستان ایسا ملک بنے جیسا قائد اعظم محمد علی جناح نے سوچا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگ جمہوریت کے لیے ووٹ دینے نکلیں ہیں میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے انتخابی مہم کے دوران دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والے انتخابی امیدواروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے جمہوریت کو مضبوط کیا، تاہم میں کامیاب الیکشن کے انعقاد پر سیکیورٹی فورسز کو بھی داد دینا چاہتا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں خلفائے راشدین کے وقت جیسا نظامِ حکومت چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات تاریخی تھے،ان کے دوران لوگوں نے قربانیاں دیں،دہشت گردی کے واقعات ہوئے، جس طرح بلوچستان میں دہشت گردی ہوئی اس کے باوجود وہاں کے عوام کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا قابل فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گردی کے واقعات کے باوجود انتخابی عمل مکمل ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ میں اس موقع پر میں چاہتا ہوں کہ تمام پاکستانی متحد ہوجائیں،میں بھی اپنے خلاف ہونے والی تمام مخالفت کو بھول چکا ہوں۔

سربراہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اب ملک میں ایک ایسی حکومت آئے گی جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی، اور تمام لوگوں کے لیے مساوی قانون بنایا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہوگا، بلکہ تحریک انصاف اپنے لوگوں کا بھی احتساب کرکے مثال قائم کرے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کا نظام بہتر کرکے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو دعوت دی جائے گی کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کریں، کیونکہ پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے یہ لوگ متحدہ عرب امارات یا دیگر ملکوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہاں امیر کیسے رہتا ہے بلکہ ملک کی پہچان ایسے ہوتی ہے کہ وہاں غریب کیسے رہتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست پہلی فلاحی ریاست تھی، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول قائم کیے تھے، ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو بھی انہی اصولوں پر لے کر آئیں۔

تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آئے گی کہ میرے عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزاریں اور میں وزیرِاعظم ہاؤس میں رہوں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، چھوٹے کاروبار میں مدد کی جائے گی اور نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے سرمایہ کاری کر رہا ہے، اہم چین سے صرف اسی شعبے میں نہیں بلکہ غربت اور کرپش ختم کرنے کا طریقہ بھی سیکھیں گے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پڑوسی ملک میں امن کا خواہاں ہے اور ملک میں امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایسے تعلقات ہوں کے دونوں ممالک کے درمیان سرحد یورپی ممالک کی طرح کھلی سرحد بن جائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا۔

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہ گزشتہ کچھ دن میں ہندوستانی میڈیا نے مجھ پر اس طرح تنقید کی جیسے میں بولی وڈ کا فلم کا کوئی ولن ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں وہ پاکستانی ہوں جس نے کرکٹ کے لیے سب سے زیادہ ہندوستان کا دورہ کیا ہے اور وہاں کے لوگوں سے میری سب سے زیادہ واقفیت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بھی فروغ ملنا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے بہتر تعلقات دونوں ممالک سمیت خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام ملک میں ایک مختلف قسم کی حکومت دیکھیں گے، انہوں نے کہا کہ میں ملک کے تمام طبقوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے بنوایا تھا، اب انہی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی شکایات کرنے والی جماعتیں جس حلقے کو کہیں گی وہی حلقے کھولے جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی کو پاکستان کے شفاف ترین الیکشن ہوئے ہیں، پاکستان کے عوام نے آج سے پہلے کبھی بھی اس طرح انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے اپنے خطاب کے آخر میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: