
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے قاف کے مطابق ۷۴ سالہ ان پڑھ اردنی خاتون «نورة الواردات» نے بلاخر محنت سے حفظ قرآن کا کارنامہ انجام دے دیا۔
انکا کہنا ہے: نا امیدی کو زندگی میں وجود نہیں اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہے ، میں نے ساٹھ سالہ خواہش حاصل کرلی ۔
نورة نے زندگی میں کٹھن مراحل کے ذکر کرتے ہوئے کہا: میں نے پوری قوت سے کام کیا اور کبھی بھی حفظ قرآن کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
اردنی خاتون نے سولہ سال قبل اربد صوبے کے قرآنی مرکز «عمراوة» سے قرآن سیکھنا شروع کیا۔
قرآن سیکھنے کے بعد چار بار دوبارہ مشق کے ساتھ انہوں نے حفظ پر کام شروع کیا اور مقصد کے حصول میں لگ گیی۔
انکی ٹیچر نعامة فواز کا کہنا تھا: بغیر تعلیم کے نوره نے کام شروع کیا تو مجھے عجیب لگا مگر انکی آنکھوں کی چمک اور اشتیاق سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ کرنا چاہتی ہے اور اسی لیے میں نے انکی مدد کا فیصلہ کیا ۔/