ایکنا نیوز- ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک تفصیلی بیان میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ دوحہ میں موجود ان کے سیاسی مرکز اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کے ساتھ مسلسل 6 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات بالآخر اختتام پذیر ہوگئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایجنڈے کے مطابق افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور دیگر اہم معاملات پر ہونے والے ان مذاکرات میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
تاہم یہ معاملہ پیچیدہ نوعیت کا ہے جس پر مزید تفصیل سے گفتگو کی ضرورت ہے چنانچہ اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہ مستقبل میں بھی برقرار رکھا جائے گا اور اس سے اپنی اپنی قیادت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔
مذاکرات میں واضح طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جب تک افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر سمجھوتہ نہیں ہوجاتا کسی اور معاملے پر سمجھوتہ ہونا نا ممکن ہے۔
علاوہ ازیں طالبان ترجمان نے میڈیا میں چلنے والی ان رپورٹس کی بھی تردید کی جس میں کہا جارہا تھا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سمجھوتہ ہوگیا ہے۔
دوسری جانب جہاں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے امریکا اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات میں معاونت فراہم کرنے پر پاکستانی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سراہا وہیں افغان طالبان نے ا س کے لیے صرف قطری حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش کش کو حوصلہ افزا قرار دیا اور ٹوئٹر پر زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔