IQNA

9:58 - September 13, 2019
خبر کا کوڈ: 3506613
بین الاقوامی گروپ-کشمیر پر سعودی و اماراتی وزرا کے بیان سے متعلق رپورٹس 'قیاس آرائیاں' ہیں، دفترخارجہ

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دوروں کے بعد اس طرح کی خبریں زیرگردش تھیں کہ 'انہوں نے حکومت کو کہا تھا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے'۔

تاہم اس حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دیا اور کہا کہ دونوں حکام نے 'پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی'۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی، ان ملاقاتوں میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال، ان اہم معاملات میں سے ایک تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا، پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر مکمل پابندی عائد ہے، انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے، کشمیری قیادت کی رہائی، میڈیا اور عالمی برادری کو کشمیر تک رسائی کے مطالبات کیے گئے۔

دوران بریفنگ جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ ثالثی کی پیشکش سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس کے لیے'تیار نہیں' ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'ہم ہمیشہ دو طرفہ مذاکرات سمیت ثالثی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے (مذاکرات) کے لیے کئی کوششیں کی تھیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'ہمارا ہمیشہ یہی موقف ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے'۔

ترجمان نے کہا کہ 'جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک عمل ہے، یہ کوئی ایونٹ نہیں، یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'کل وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کے لیے پالیسی بیان دیں گے، اس کے علاوہ (دیگر) مختلف اقدامات زیر غور ہیں اور جیسے ہی کچھ حتمی ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں بتائیں گے، فی الحال ابھی کچھ حتمی نہیں'۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 'پاکستان اور بھارت کے درمیان پس پردہ کوئی مذاکرات' جاری نہیں ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے واضح کردیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کی خبریں بے بنیاد پروپیگنڈا کا حصہ ہیں، ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے'۔

ان کے یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اسرائیلی اخبار کے تفصیلی آرٹیکل کے بعد سامنے آئے جس میں پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

نام:
ایمیل:
* رایے: