IQNA

9:17 - December 04, 2019
خبر کا کوڈ: 3506933
بین الاقوامی گروپ- امریکی دفاعی حکمت عملی کے بارے میں پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو مسلم عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ چین اور روس سے خطرہ ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے کہا کہ چین اور روس امریکا کے عالمی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

علاوہ ازیں ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کابل سے فوجیوں کی واپسی طالبان سے معاہدے سے منسلک نہیں۔

جاری کردہ پینٹاگون رپورٹ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ 'طویل مدتی تناظر میں چین ہی امریکہ کے لیے واحد خطرہ ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس روس آج کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 'بین الااقوامی سطح پر زبردست طاقت

کے مقابلے کا مکان ہے '۔

واضح رہے کہ جنرل مارک ملی 30 ستمبر کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے 20 ویں چیئرمین بننے کے بعد سے شام، ترکی، شمالی کوریا، روس، چین، ایران اور سعودی عرب کے معاملات میں فعال ہیں۔

رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ چین اور روس معاشی، سیاسی، سفارتی اورعسکری لحاظ سے اپنا دائرہ بڑھا رہے ہیں اور یہ سب ہائبرڈ تنازع کے پیش نظر ہورہا ہے۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ چین اور روس اپنے علاقائی اور عالمی وقار کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکہ کے دونوں حریف 'عالمی آرڈر میں رد و بدل پر مجبور کرنے کے لیے حکومت کے اس سارے جبر' کو استعمال کریں گے۔

جنرل مارک ملی نے رپورٹ میں حوالہ بھی شامل کیا کہ 'یہ ایک خطرناک دنیا ہے اور دوستوں کے ساتھ یہ بہتر ہے اور واشنگٹن سے اپیل ہے کہ وہ چین اور روس کو امریکا کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دیں اور ہمیں طاقت کے ذریعے امن قائم رکھنا چاہیے'۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی کی ترجیحات کی فہرست میں بتایا گیا کہ چین اور روس کے بعد شمالی کوریا اور ایران امریکی مفادات کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔

پیر کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان سے امن معاہدہ کے علاوہ بھی افغانستان میں امریکی و نیٹو فوجیوں کی تعداد میں کمی کا جلد امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پر اعتماد ہوں کہ ہم افغانستان میں اپنے لوگوں کی تعداد میں کمی لائیں گے لیکن یقین ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ثابت نہیں ہوگی جو امریکا پر حملہ کرسکیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 13 ہزار امریکی اور ہزاروں نیٹو فوجی موجود ہیں۔

امریکی حکام نے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرکے 8 ہزار 600 تک لائی جائے گی جو صرف انسداد دہشت گردی کے منصوبوں میں معاونت فراہم کریں گے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: