IQNA

8:45 - January 23, 2020
خبر کا کوڈ: 3507141
بین الاقوامی گروپ-وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ افغانستان امن عمل اور وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ان دنوں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے سلسلے میں سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں اس فورم میں امریکی صدر سمیت دیگر عالمی رہنما شریک ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فورم کے موقع پر عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

ملاقات کے دوران موجود شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پوری ٹیم ملاقات میں موجود تھی جس میں اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی اور وزیر اعظم عمران خان نے اس دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے امریکی صدر کے سامنے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کا نام نکالنے کا معاملہ اٹھایا اور پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی جس پر صدر ٹرمپ نے انہیں اس معاملے میں حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعظم نے امریکی صدر کو ٹریول ایڈوائزی میں بہتری کی درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کے حوالے سے بھی بات کی جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ امریکا کا ایک تجارتی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔

دوران ملاقات خطے کی صورتحال خصوصاً مسئلہ کشمیر پر بھی گفتگو ہوئی اور وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور وہاں معصوم کشمیریوں پر بھارتی ظلم و استبداد کی تفصیلات سے امریکی صدر کو آگاہ کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے اور اس مسئلے کے حل پر زور دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ کشمیر کے معاملے پر بات کریں گے۔

 

وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ افغانستان امن عمل اور وہاں سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

واضح رہے کہ جولائی 2018 میں عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اب تک یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری ملاقات ہے۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے: