IQNA

10:49 - February 29, 2020
خبر کا کوڈ: 3507299
تہران ( ایکنا)امریکا اور طالبان کے درمیان دو دہائیو ں پر محیط طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدہ آج قطر میں ہو گا۔

جیو نیوز کے مطبق دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہو گا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

تقریب میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف تاریخی بلکہ افغانستان میں امن، سلامتی اور خوشحالی کی جانب بہترین سنگ میل ثابت ہو گا۔

دوحہ امن معاہدے سے نہ صرف امریکا اور طالبان کے درمیان انیس سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستان سمیت خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔

دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان میں مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے گا، معاہدے کے فالو اپ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مستقل قیام امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

معاہدے سے افغانستان میں موجود 14 ہزار امریکی اور 17 ہزار نیٹو فوجیوں کے انخلا کی راہ ہموار ہو گی۔

امریکا اور طالبان کے درمیان 2018 سے جاری مذاکرات کے کئی کامباب اور ناکام ادوار ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے اور طرفین کی طرف سے امن کی خواہش کے نتیجے میں دوحہ میں افغان امن معاہدے پر امریکا اور طالبان کے دستخط در اصل معاہدے کے سہولت کار پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے جس میں پاکستان کہہ چکا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

امن معاہدے کا شیڈول

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کا نیا شیڈول سامنے آیا ہے جس کے مطابق امن معاہدہ پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 45 منٹ ہو گا۔

شیڈول کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے 6 بجے پریس کانفرنس کریں گے۔

معاہدہ افغان عوام کے لیے امید اور روشنی کی ایک کرن ہو گا: شاہ محمود قریشی

پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان امن کا قیام افغان قیادت کے تحت خود افغانوں نے یقینی بنانا ہے اور یہ کہ افغان امن پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے دوحہ معاہدہ امریکا کی آج تک کرہ عرض پر لڑی جانے والی طویل ترین جنگ کا خاتمہ اور افغان عوام کے لیے امید اور روشنی کی ایک کرن ہو گا۔

افغان عوام موقع سے فائدہ اٹھائیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان عوام موقع سے فائدہ اٹھائیں، امن معاہدے سے نئے مستقبل کا موقع مل سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اُن کی ہدایات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو طالبان نمائندوں کے ساتھ سمجھوتے کی تقریب میں شامل ہوں گے، وزیر دفاع مارک ایسپر افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

کسی کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: ترجمان افغان طالبان

دوسری جانب قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ 7 روز میں افغانستان میں کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ہم آگے چلیں گے۔

ترجمان افغان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ملک ہے جس سے ہمارے ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں، 40 سال سے 40 لاکھ افغان باشندے پاکستان میں تھے، اب بھی پاکستان میں 20 لاکھ افغان مہاجرین ہیں جب کہ روسی مداخلت کے وقت بھی پاکستان کا کردار رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان مسئلے کے پُرامن حل کی حمایت کی ہے، افغان طالبان چاہتے ہیں افغانستان امن کا گہوارہ بنے اور تجارت بھی ہو، ہم پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ اچھے تعلقات سب کے مفادات میں ہیں۔

سہیل شاہین نے کہا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ افغان سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال کرے، سرحد سے باہر افغان طالبان کی کوئی پالیسی اور ایجنڈا نہیں ہے، امریکا سے معاہدے میں یہ تمام باتیں شامل ہیں جس پر وہ پُرعزم ہیں۔

215329

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: