IQNA

8:35 - April 20, 2020
خبر کا کوڈ: 3507534
تہران(ایکنا) لاک ڈاون اور امداد رسانی میں رکاوٹ کی وجہ سے پناہ گزینوں میں مقیم روھنگیا مسلمانوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔

بھارت میں کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے دھلی نو، جموں و کشمیر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے روھنگیا کو بھوک سے خطرات لاحق ہیں. لاک ڈاون کی وجہ سے مقامی این جی اوز کو بھی امداد رسانی میں رکاوٹیں در پیش ہیں۔

 

دھلی نو مہاجر کیمپ میں رھنے والے جعفر الله کا کہنا تھا: ہمارے کیمپ میں ۲۵۰ خاندان بستے ہیں اور لاک ڈاون کی وجہ سے سب کو مشکلات درپیش ہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ حکومت نے «نوح» کو ریڈ لاین قرار دیا ہے اور مکمل کرفیو کی وجہ سے یہاں رہنے والوں کو بدترین مسائل کا سامنا ہے اور کیمپ سے نکلنے والوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے بھوک سے لوگ مرسکتے ہیں۔

 

جموں کشمیر کیمپ میں رہنے والے عبدالرحیم کا اس بارے میں کہنا تھا: ہمارے کیمپ میں ۱۵۰۰ فیملی بستی ہیں جنمیں ۷۶۰۰ لوگ شامل ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی غذا اور حاملہ خواتین کو خوراک کی وجہ سے بدترین مشکلات درپیش ہیں۔

 

گذشتہ روز انڈین حکومت نے سخت لاک ڈاون کا اعلان کیا جو اگلے دو ہفتوں تک جاری رہے گا۔

 

انڈیا میں اب تک کورونا وائرس کے  ۱۴ هزار ۷۹۲ کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ ۴۸۸ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

 

سال ۲۰۱۷ میں بودھ شدت پسندوں اور فوج کے مظالم سے تنگ آکر جان بچانے کے لیے لاکھوں روھنگیا برما سے فرار ہوگَئے تھے۔/

3892528

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: