IQNA

7:59 - April 21, 2020
خبر کا کوڈ: 3507536
تہران(ایکنا) علما کی جانب سے تراویح گھروں میں کرانے کے فیصلے نے حفاظ کے لیے مشکلات پیدا کردی۔

کورونا نے دنیا بھر خوف پھیلا دیا ہے اور مسلمانوں کے لیے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

 

حیدرآباد ھندوستان میں علما نے کورونا کے حوالے سے دیگر علما سے مشاورت شروع کر دی ہیں۔

 

کورونا کی وجہ سے دیگر عبادات کی طرح ھندوستان میں نماز تراویح بھی گھروں میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

جامعه نظامیه، دَكَن» نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان حالات میں تراویح درست نہیں۔

 

آندھرا پردیش اور حیدرآباد میں چار ہزار مساجد بند رہیں گی جس سے حفاظ کرام کی مشکلات میں میں اضافہ متوقع ہے جنکی اہم آمدنی اس طرح کی نمازوں سے آتی ہے۔

 

نماز تراویح کے لیے ہر حافظ قرآن رمضان میں ۲۵ هزار سے ۱۰۰ هزار روپیه دریافت کرتے ہیں۔

 

حافظ سید قیام الدین کا کہنا ہے کہ اس مہینے میں بہت سے برکتیں ہوتی ہیں اور اس سال پہلی بار ہم بہت سے امور اور معنوی برکتوں سے محروم ہیں اور مالی محرومیاں ہی تک محدود نہیں۔

 

رمضان؛ حفاظ کے لیے در آمد کا مہینہ

 

 قیام الدین ​​جو انجنیر بھی ہے تراویح کے لیے پیسے نہیں لیتا لیکن ان کا کہنا ہے کہ بہت سے حفاظ کی آمدنی اسی مہینے کی کمائی سے ہوتی ہے۔

 

ایک اورحافظ  نے نام نہ لینے کی شرط پر کہا ہے کہ انہوں نے گذشتہ رمضان کو ۴۰ هزار روپیه کمایا تھا اور اس سال بھی وہ اس چیز کا انتظار کررہے تھے۔

 

بعض حفاظ کو توقع ہیں کہ بعض امیر گھرانے انہیں گھروں میں تراویح پڑھانے کے لیے دعوت دیں گے تاہم یہ صرف حیدر آباد شہر تک ممکن ہوسکتا ہے دیہی علاقوں میں ایسا ہونا مشکل ہے۔

 

حیدر آباد اقتصادی حوالے سے اچھے شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اسی لیے رمضان میں دیگر علاقوں سے بھی حفاظ کرام یہاں تراویح پڑھانے آتے ہیں۔

 

حفاظ کے علاوہ مدارس بھی رمضان کو زکات کے پیسے جمع کرتے ہیں اور انکے مسولین زکات جمع کرانے کے لیے مہم چلاتے ہیں تاہم اس سال لاک ڈاونن کی وجہ سے یہ سب ممکن نہ ہوگا اور مدارس کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔/

3892988

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: