IQNA

8:16 - April 22, 2020
خبر کا کوڈ: 3507545
تہران(ایکنا) جرمنی میں بڑی تعداد میں لوگ اسلامی طرز پر تدفین کا تقاضا کررہے ہیں۔

جرمنی میں قبرستان انتظامیہ کے مطابق آخری سالوں میں بڑی تعداد میں مرے مسلمان یہاں پر دفن کیے جارہے ہیں جبکہ اس سے پہلے اکثر لوگ چاہتے تھے کہ انکی میت کو انکے آبائی وطن بھیجوایا جائے۔

 

مسلمان مہاجرین کی پہلی نسل یہاں پر دفن ہونے سے کتراتے تھے اور اسی بناء پر قبرستانوں میں مسلمانوں کے لیے الگ سے جگہ نہ تھی اور انکو ضرورت پڑنے پر عیسائیوں کے ساتھ کسی کونے پر دفنایا جاتا۔

 

سال ۱۹۴۱ میں پہلی بار ھمبرگ میں مسلمانوں کے لیے الگ جگہ مخصوص کی گیی، اس وقت یہاں پر ۱۴۸ قبریں ایرانی ڈیپلومیٹس سے مخصوص تھی۔

 

آج جرمنی میں ۳۰۰ قبرستانوں میں مسلمانوں کے لیے الگ جگہ مخصوص ہے گرچہ یہاں پر دفن مسلمانوں کی مجموعی تعداد کنفرم نہیں۔

 

تاہم ایک سروے کے مطابق  سال ۲۰۱۸، کو ۴۴۱ مسلمان برلین میں دفنائے گئے جبکہ سال ۲۰۱۷، کو ۳۹۵ افراد کی تدفین ہوئی تھی. سال ۲۰۱۹ میں دفنائے گیے افراد کی تعداد کنفرم نہیں تاہم یقینی طور پر گذشتہ سالوں کی نسبت اس میں کافی اضافہ ہوا ہے گرچہ برلین میں بعض مقامات پر الگ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انکو دیگر قبرستانوں میں دفنایا گیا ہے جنکی تعداد معلوم نہیں۔

 

ھمبرگ میں سال ۲۰۱۶ تک دفن شدہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا تاہم سال ۲۰۱۷ اور ۲۰۱۸ کو اس میں کمی دیکھی گیی تاہم سال  ۲۰۱۹ میں اس میں دوبارہ تیزی سے اضافہ ہوا۔

 

کُلن شہر میں  سال ۲۰۱۹ سے دفن مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسلڈورف اور دورتمند میں بھی انتظامیہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کی خبر دے رہی ہے۔

 

فرنکفرٹ اور لایپزیگ میں گرچہ کنفرم تعداد معلوم نہیں تاہم یہاں بھی اضافہ کی خبر ہے  جبکہ اشٹوٹگارٹ اور مونیخ میں درست اطلاعات نہیں مل سکی ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ یہاں پر مسلمان طرز پر تدفین کے لیے سہولیات میں اضافہ ضروری ہے اور اس وقت بھی کافی شہروں اسلامی طرز پر تدفین میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

3893165

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: