IQNA

12:19 - May 16, 2020
خبر کا کوڈ: 3507642
تہران(ایکنا) دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کاروبار اور لوگوں کی آمدورفت بند رہی تاہم یومِ علیؓ کی مناسبت سے کراچی کے مرکزی جلوس کو ایس او پیز کے ساتھ اجازت دی گئی تھی لیکن چھوٹے جلوسوں کو روک دیا گیا۔

 

دفعہ 144 کی خلاف ورزی پرشہر کے مختلف تھانوں میں 29 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 200 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ یوم علی: دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 29 مقدمات درج، 200 سے زائد افراد گرفتار

چار روزہ نرمی کے بعد لاک ڈاؤن میں تین روزہ سختی پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ سندھ حکومت کی ہدایت پر کراچی سمیت صوبے بھر میں آج جمعے کو دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک تمام کاروبار اور ٹریفک کی آمدو رفت بند رہی۔

مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات بھی مقررہ حدود کے مطابق رہے۔ ہفتے اور اتوار کو شہر کے تمام کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند رہیں گی جبکہ اشیاء خور و نوش، بیکری، میڈیکل اسٹورز اور دودھ کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

مجلس وحدت مسلمین سندھ کی مقدمات اورگرفتاریوں کی مذمت

کراچی میں یومِ علی کی مناسبت سے مرکزی جلوس 11 بجے حسینیہ ایرانیہ امام بارگاہ کھارادر میں اختتام پزیر ہوا، جلوس کی گزرگاہوں کو کنٹینر لگاکر بند کردیا گیا تھا جبکہ سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مرکزی جلوس میں حکومتی ایس او پیز کا خیال رکھا گیا تاہم پابندی کے پیش نظر شہر کے دیگر علاقوں سے برآمد ہونے والے چھوٹے جلوسوں کو اجازت نہیں دی گئی۔

کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر ایکشن جاری ہے ، رات سے اب تک شہر میں 38 مقدمات درج کیے گئے، 150 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جن افراد پر مقدمہ کیا گیا یا گرفتار کیا گیا ان میں جلوس کے منتظمین اور شرکاء دونوں شامل ہیں۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم ) سندھ نے مقدمات اورگرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔

رہنما ایم ڈبلیو ایم علامہ باقر عباس زیدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 200 سے زائد افراد کی جلوس سے واپسی پر گرفتاری قابل مذمت ہے، کراچی سمیت سندھ بھر میں ایس او پیز کی پابندی کے باوجود گرفتاریاں کی گئیں، حکومت سندھ گرفتار افراد کو فوری رہا کرے۔

221544

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: