IQNA

7:43 - June 14, 2020
خبر کا کوڈ: 3507763
تہران(ایکنا) کابل کی مسجد شیرشاه سوری میں دھماکہ اور امام کی شہادت پر علما نے سیکورٹی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل کے علما نے شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے منظم اقدامات کو روکنے میں ناکامی پر سیکورٹی فورسز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 

کابل کے عالم دین شاه‌محمد کابل میں حالیہ دھماکے کے حوالے سے کہا: شدید پریشانی ہے دو رات سے میں نہیں سو سکا، واقعات کو روکنا ہوگا۔

 

مولوی نصرالدین، ایک اور عالم دین کا کہنا تھا: قابل قبول نہیں حکومت باتوں کی بجائے عمل سے ثابت کرے کہ وہ دہشت گردوں کی مخالف ہے۔

 

گذشتہ روز کابل کی مسجد میں دھماکے سے چار نماز شہید ہوگیے تھے جنمیں امام مسجد عزیزالله مفلح بھی شامل تھے۔

 

گذشتہ ہفتے کو کابل کی مسجد وزیر اکبر خان کابل میں دھماکہ ہوا تھا جسمیں امام مسجد جان ملا ایاز نیازی شہید ہوئے تھے اور اس واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

 

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ٹارگٹ کلنگ میں روشن خیال اور اعتدال پسند علما کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

 

افغان شہری طوفان کا کہنا تھا کہ دشمن نہیں چاہتے کہ شہر میں محبت اور وحدت کی فضاء قایم رہے۔

 

عزیزالله مفلح کو مسجد شیرشاه سوری کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔

 

ان واقعات کے باوجود افغان سیکورٹی حکام کا دعوی ہے کہ وہ سیکورٹی کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔

 

وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرین کا کہنا تھا کہ ہم علما سے رابطے میں ہیں۔

گذشتہ دس روز کے دوران کابل میں دو ، تخار اور قندز میں ایک ایک عالم دین شہید کردیے گیے ہیں۔

 

اگرچہ افغان صدر اشرف غنی نے ملا ایاز نیازی کی شہادت کے بعد تحقیقاتی ٹیم قایم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔/

3904680

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: