IQNA

8:59 - September 15, 2020
خبر کا کوڈ: 3508216
تہران(ایکنا) حزب‌الله لبنان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات قدس شریف اور فلسطینی عوام سے خیانت ہے.

شیخ نعیم قاسم نے « اسرائیل کی نابودی کے راستے» کے عنوان سے ویڈیو کانفرنس جو «شباب المقاومت» کے تعاون سے منعقد کی گئی  خطاب کررہے تھے۔

 

شیخ نعیم قاسم کے خطاب میں کہا گیا ہے:

 

بسم الله الرحمن الرحیم والحمد لله رب العالمین والصلاة والسلام على أشرف الخلق مولانا وحبیبنا وقائدنا أبی القاسم محمد وعلی آل بیته الطبیین الطاهرین وصحبه الأبرار المنتجبین

 

سلام بر حسین، سلام بر علی بن حسین، سلام بر فرزندان حسین و سلام بر یاران حسین

 

سلام بر شهدای کربلا پر اور قیامت تک راہ جق کے شہیدوں پر. سلام علیکم و رحمت الله وبرکاته

 

حق کے مجاہدین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امت کے مسائل کے لیے ہم فکری لازمی ہے اور اس وقت ہمار اصلی مسئلہ

مسئله فلسطین و قدس ہے۔ اسرائیل نے فلسطین پر مغرب اور برطانیہ کے تعاون اور سازش سے قبضہ کیا ہے تاکہ ان کا یہاں پر تسلط ہو۔

 

۱۹۴۷ و ۱۹۴۸ کو اقوام متحدہ کی باری آئی جس نے انکو قانونی قرار دیا جسکے بعد اسرائیل نے علاقے میں جنگ شروع کی اور استعماری پشت پناہی سے وہ بڑے علاقوں پر تسلط کا خواب دیکھ رہا ہے۔

 

ہمارا کیا کردار ہے ہمیں فلسطین کو آزاد کرانا ہوگا اور بقول امام خمینی (قدس) کینسر کی جڑ ہے اور آئے روز وہ امت کے پیکر کو معذور کرتا جا رہا ہے۔

 

امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وحدت کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کریں اور جان لینا چاہیے کہ

 

۱- فلسطین وقدس کی آزادی لازمی ہے اور یہ نظامی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں اور دوسری جانب اسرائیل کو سازشی ممالک کی جانب سے عسکری اور سیاسی حمایت حاصل ہے لہذا اپنے زور بازو سے اسکو آزاد کرانا ہوگا۔

 

سوال ہوتا ہے کہ کیا آزادی کا کوئی اور راستہ موجود ہے ، نہیں موجودہ حالات میں حضرت امام خمینی (قدس) اور حضرت امام خامنه‌ای ( دام ظله) کے فرمودات کی روشنی میں صرف نظامی جدوجہد سے قدس کی آزادی ممکن ہے».

 

لہذا سب کے لیے واضح ہونا چاہیے کہ قرآن کا راستہ جہاد کا راستہ ہے اور قرآنی ہدایات کی روشنی میں سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کردار ادا کریں۔

 

۲- انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی جو حضرت روح الله خمینی (قدس) کی رھنمائی میں انجام پائی اس کے بعد ہمارے لیے راستہ کھل گیا ہے اور امام نے بھی سب سے پہلے اسرائیل کا سفارت خانہ بند کرکے فلسطین کا سفارت خانہ کھول دیا۔

 

 

امام خامنه‌ای (دام ظله) جو مزاحمتی بلاک کی رھنمائی کررہے ہیں انکا کہنا ہے: «فلسطین آزاد یقینا آزاد ہوگا آپ شک نہ کریں». اور وہ ایمان و توکل کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں اور انشااللہ یقینا یہ ہوکر رہے گا۔

 

۳- حزب‌الله جو ایک چھوٹا گروہ تھا ایمان کے سہارے اس مقام پر پہنچا ہے حزب اللہ کو امام خمینی (قدس) کے فرامین پر ایمان تھا اور اسی وجہ سے وہ آج اس مقام پر کھڑی ہے۔

 

حزب الله کی کامیابی کے تین عوامل ہیں: ۱- خدا پر مکمل ایمان کہ خدا ہماری مدد کرے گا. ۲- امام خمینی اور امام خامنه ای. کی پیروی اور انکی بصیرت پر گامزن ہونا,۳- امام حسین (علیه السلام) اور شہدائے کربلا کے نقش قدم پر قربانی و فدا کاری۔ اور انہیں بنیاد پر اسرائیل اور داعش کی کمر توڑنے میں ہم کامیاب ہوئے ہیں۔

 

۴- امارات و بحرین کا اسرائیل سے رابطہ فلسطین و قدس امت و اسلام سے خیانت ہے اور یہ اسرائیلی مفادات کے لیے کام ہے، نه  کہ امارات و دیگر ممالک کے لیے ، ہم سجھتے ہیں کہ فیصلے کا حق فلسطینی عوام کو حاصل ہے کسی اور کو نہیں۔

 

فلسطینی عوام نے سینچری ڈیل کو مسترد کردیا ہے اور غزہ سے جنگوں میں انہوں نے اسرائیل کو روک دیا اور کوئی دوسرا انکی جگہ فیصلہ نہیں کرسکتا اور خدا کا شکر ہے کہ ان اقدامات سے انکے حقیقی چہرے واضح ہوگئے۔

 

 

۵- مزاحمتی بلاک کی کامیابی  فلسطینی عوام کی کامیابی اور پورے علاقے میں حق کی کامیابی ہے اور اسی لیے لازم ہے کہ سب متحد ہوکر جدوجہد کریں۔

 

سردار شهید قاسم سلیمانی نے دن رات یہاں خطرناک حالات میں کام کیا اور آج انکی برکات سے ہم مستفید ہورہے ہیں ۔

 

سلام شهید قاسم سلیمانی پر، شهدائے فلسطین پر، شهید یاسین، شهید حاج عماد مغنیه ،شہید حجت‌الاسلام سید‌عباس موسوی اور شیخ راغب حرب اور تمام شہیدا پر۔

 

یاد رکھیں آج اسرائیل میں مقابلے کی طاقت نہیں اور ہم روز برروز کامیابی کی سمت آگے جارہے ہیں ۔

 

اے جوانوں تم سے امیدیں وابستہ ہے اور  فلسطین و قدس، کی آزادی خدا پر ایمان کے سہارے نزدیک ہے۔/

3922988

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: