IQNA

7:22 - December 06, 2020
خبر کا کوڈ: 3508586
تہران(ایکنا) میامی ھیرالڈ لکھتا ہے: اسلام سے مخالفت صرف مسلمان نہیں بلکہ سب کو متاثر کرسکتی ہے۔

ٹرمپ خود جارہا ہے مگر جاتے جاتے انہوں نے جس طرح تعصبات کی فضاء بنادی ہے وہ امریکہ کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتی ہے۔

 

سال ۲۰۱۱ اور ۲۰۱۲ کو ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ  باراک اوباما خفیہ طور پر مسلمان ہے تاہم یہ درست نہ تھا مگر اس سے ٹرمپ کی زہنیت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ سال ۲۰۱۵ میں ایک اجتماع میں ٹرمپ کے ایک حامی نے سوال کیا کہ ہمارے ملک میں "مسلمان" کے نام سے ایک مشکل موجود ہے کیا ہوگا تو ٹرمپ نے سرہلاتے ہوئے کہا تھا کہ ہاں اس طرح کے سوالات ہونے چاہیے بہت سے کام کرنا ہوگا».

 

سمیر ککلی میامی ھیرالڈ پوسٹ میں لکھتا ہے:  سال ۲۰۱۵ کو جب مسلمانوں نے گیارہ ستمبر حملوں کے خلاف مظاہرے کیے تو ٹرمپ نے اسے بدمعاشی قرار دیا تاہم ٹرمپ نے اسی سال مسلمانوں کے امریکی میں داخلے پر پابندی لگا دی اور پھر ٹویٹ میں دعوی کیا کہ " برطانیہ کوشش کررہا ہے کہ اسلامی مسئلے کو چھپا لے"

سال ۲۰۱۶ کو ٹرمپ نے دعوی کیا  «اسلام ہم سے نفرت کرتا ہے».

 

ککلی لکھتا ہے کہ کرائسٹ چرچ واقعے میں ملوث حملہ آور ٹرمپ ہی کے بیانات سے متاثر ہوکر اس نے یہ کارروائی کی تھی۔

وہ لکھتا ہے کہ ٹرمپ کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں بہت اضافہ ہوا اور انکے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوئی تاہم سیاست داں مشکل حل کرنے کی بجائے  مسلمانوں اور اسلام میں فتنہ اور شیطانی منصوبوں کی بات کرتے ہیں۔

 

کلکی کا کہنا تھا: اسلام ہراسی لاکھوں ڈالر کی انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکی ہے جو عام طور پر انتخابات کے حوالے سے ایک حکمت عملی کی شکل میں استعمال کی جاتی ہے ۔

 

ککلی آخر میں لکھتا ہے: جب معاشرے میں خوف عام ہوجائے تو اس کے اثرات بلا تفریق سب کو متاثر کرتے ہیں اور لوگ بھی تعصب و ظلم کو قبول کرنے لگتے ہیں۔

انکا خیال ہے کہ اگرچہ مسلمان اسلام فوبیا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں تاہم مجموعی طور پر عدم تحفظ کی فضاء میں سب لوگ مشکلات کو محسوس کریں گے۔/

3939102

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: