شیعہ ہزارہ اقلیت نہیں ، بلوچستان میں رہنے والے ہر بلوچ ، پشتوں پنجابی کے جسم کا حصہ ہے ،ہزارہ برادری کا قتل عام بند کیا جائے ،
سانحہ مچھ میں شہید کئے گئے ہزارہ محمد صادق 6 بہنوں، دو بیٹیوں اور بوڑھے ماں باپ کا اکلوتا کفیل تھا،
میرا سوال ہے ریاست سے، میرا سوال ہے تمام سیاسی جماعتوں سے کیا ان بے گناہوں کا قتل آپ کے ذمہ نہیں؟ کیا روزِ محشر خدا کی عدالت میں آپ سے سوال نہیں کیا جائے گا؟ عمران خان، مریم نواز، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمنٰ جام کمال صاحب اور دیگر سیاستدان آپ سب نے ابھی تک ان شہدا کے لئے کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں ، آپ کو کتنی بار حکمرانی ملی مگر آپ سب کی حکومتوں میں ہزارہ برداری کے لوگ قتل ہوتے رہے ان کو گزشتہ 15 سال سے اپنے ہی علاقوں میں قید کر رکھا گیا ہے ، نہ آذادی سے گوم سکتے ہیں ؟ اور نہ کئی آذادی سے کئی جا سکتے ہیں ، بازار میں ان کی جائیدا دیں کوڑیوں کے بھاو فروخت ہوئی آپ اسلام آباد کے حکمرانوں نے صرف آکر جھوٹی تسلیاں دی ، آپ لوگوں نے قاتلوں کو نہیں پکڑا، جن کو پکڑا ان کو آج تک سزائیں نہیں ملی ۔۔
پچھلے سال چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ صاحب نے یہ یقین دھانی کروائی تھی کہ آئیدہ اس کا سدباب کیا جائیگا ، مذھبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائیگی لیکن ایک بار پھر ہمارے صوبے کو خون میں نہلا دیا گیا ھم بلوچستان کے لوگ کب تک لاشیں اٹھاتیں رہیں گے ؟ یہاں بلوچوں ، پشتونوں ہزارہ، پنجابیوں کے کئی مستقبل کے معمار ڈاکٹروں، وکلاوں ، پروفیسرز کو شہید کیا گیا قابل ترین لوگ ھم سب بچھڑ گئے حکومت کا ہمیشہ سے یہ دعواہ رھا ہے پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں لیکن داعش کا ان معصوموں کو شہید کرنے کا دعواہ سوالیہ نشان ہے ؟

آج داعش پاکستان میں پنجے گاڑھ رہا ہے اور داعش کو مضبوط کرنے میں وہی لوگ مدد کر رہے ہیں جو علی الاعلان فرقہ واریت کو دوام بخشتے ہیں
محمدصادق کی بہن کا یہ جملہ ھم سب کا کلیجہ چھلنی کر گیا ہے، وہ کہتی ہیں ہمارے گھر میں مرد نہیں ہے ہم چھ بہنیں اپنے بھائی کا جنازہ اٹھائیں گی،
اے تخت پہ بیٹھے بادشاہوں یاد رکھنا تاریخ میں یہ لکھا جائے گا 6 بہنوں کو ایک بھائی کی بریدہ لاش ملی ، جنازہ اٹھانا تو دور بھائی کی لاش پہ رونے بھی نہیں دیا گیا ، مگر اس شہید مقتول کی بہن کی آہ نے عرش ہلا دیا اور ظلم پہ بنی ایک حکومت کی بنیادیں ہلا ڈالیں تھیں، ان شاء اللہ ان شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا، ان بہنوں کی آہیں ہر یزیدِ وقت کو تباہ کر ڈالے گی آج سب بلوچستانیوں کو اس ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کرنا چاھئے ورنہ کوئی بھی نہیں بچھے گا آج ہزارہ قوم کے گھر میں ماتم ہے کل میرے اور آپ کے گھر میں بھی ماتم ہو گا۔