
پاکستانی تجزیہ کار اور یونیورسٹی استاد «زاهد علی زاهدی»، نے اپنے مقالے میں «جنسی غلامی کے خاتمے میں شهید سلیمانی کا کردار» کے عنوان سے جو بین الاقوامی ویبنار «میڈل ایسٹ میں خواتین اور فیملی کا امن اور شہید سلیمانی و ابومهدی المهندس کا کردار» میں کہا: شهید نے علاقے سے عورتوں کی کنیزی اور غلامی کے خاتمے کے لیے زبردست خدمات انجام دیے۔
انہوں نے رهبر معظم انقلاب کے سردار سلیمانی پر عنایات کے حوالے سے کہا: شهید سلیمانی و سیدحسن نصرالله اور ان میں رابطے عجیب تھے اور اسرائیل ان سے بہت خوفزدہ رہتا تھا۔
زاهد علی زاهد کے مطابق شام و عراق میں خواتین کی زندگی داعش کے تسلط سے شدید متاثر ہوئی تھی اور داعش نے انکی زندگی کو خطرات سے دوچار کردیا تھا۔

زاهد علی زاهد کا کہنا تھا کہ ہزاروں عراقی اور ایزدی خواتین جنسی غلامی میں جاچکی تھی اور داعش کے فاحشے خانے برطانوی خواتین کی زیرنگرانی چل رہے تھے اور شہید سلیمانی انکا خاتمہ کیا۔
پاکستانی دانشور کے مطابق داعش نے خوف و وحشت سے فضاء کو خوفناک اور تاریک کردیا تھا اور اس فضاء کو ختم کرنے میں سردار سلیمانی کا اہم ترین کردار تھا۔
انکا کہنا تھا کہ داعش صرف عراق و شام تک قبضہ نہیں کرنا چاہتی تھی بلکہ فلسطین، اردن اور لبنان تک جانا چاہتی تھی جسکو سلیمانی نے ناکام بنایا۔
پاکستانی دانشور کے مطابق داعش «سنجار»(شمال مغربی عراق) پر حملے کے وقت بڑی تعداد میں خواتین کی فروخت کررہی تھی اور اس کام میں ملوث افراد کو ایوارڑ تک دیتی تھی۔/