IQNA

7:01 - January 13, 2021
خبر کا کوڈ: 3508763
تہران(ایکنا) برطانوی تنظیم کے مطابق یہودیوں کو خود کو برترنسل خیال کرنا اور خود خواہی اس رژیم کی اصل ماہیت ہے۔

گارڈین کے مطابق انسانی حقوق تنظیم بعٹ سلم (B’Tselem)  نے رپورٹ شایع کی ہے جس کے مطابق یہودی پالیسی کے مطابق وہ فلسطینیوں سے برتر اور تسلط انکا حق ہے۔

 

اوحاد زمٹ (Ohad Zemet)، جو برطانیہ میں اسرائیلی سفارت کار ہے انہوں نے اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ ایک آئیڈلوجیکل تحریف ہے۔

 

انسانی حقوق تنظیم کے ڈائریکٹر هاگای العاد کا کہنا ہے: اسرائیل رژیم ایک وسیع حصے پر قابض ہے اور انکی سوچ ہی تسلط طلبانہ ہے اور یہ رژیم ایک نسل پرست رژیم ہے۔

 

رپورٹ میں لکھا ہے: اسرائیل سسٹم کے مطابق یہودیوں کو تمام سہولیات اور برتری حاصل ہے اور فلسطینی مختلف گروپوں میں تقسیم کمتر حقوق کے حامل ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق غزہ میں بیس لاکھ فلسطینی محاصرے میں ہیں اور اسی طرح تین لاکھ کے قریب فلسطینی مغربی پٹی میں سیاسی حقوق سے محروم زندگی گزار رہے  ہیں۔

 

مذکورہ تنظیم کے مطابق خود ساختہ فلسطینی اتھارٹی اب بھی  اسرائیل کے زیر اثر ہے ۔

 

 سال ۲۰۱۷ کو بھی اقوامتحدہ کے ذیلی ادارے نے اسرائیل کو نسل پرست رژیم قرار دیا تھا۔

 

سال گذشته نے مغربی کنارے کے ضم کرنے کے حوالےے سے اسرائیلی وزیر اعظم نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کو تجزیہ کاروں نے نادرست قرار دیا اور کہا کہ اس سے اس رژیم کے نسل پرست ہونے کا الزام درست ہوگا۔

 

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ اس رژیم نے مغربی پٹی کے الحاق کے منصوبے کو کینسل کردیا ہے تاہم کیونکہ عملا اس پر عمل ہوچکا ہے  کیونکہ  ۴۰۰ هزار یہودی وہاں پر زندگی بسر کررہے ہیں جنکو تمام اسرائیلی‌ها خدمات حاصل ہیں۔/

3947272

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: