IQNA

14:50 - January 21, 2021
خبر کا کوڈ: 3508797
سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ملزم محمد عمر بن خالد کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے طالب علم تھے، جو پاکستانی کرنسی کو پہلے امریکی ڈالروں میں اور پھر بٹ کوئن میں تبدیل کرکے شام منتقل کرتے تھے۔

 

کراچی میں ایک نوجوان کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی فنڈنگ میں بٹ کوئن کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔

 

پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے پاکستان سے چندہ اکٹھا کرکے کرپٹو کرنسی بٹ کوئن میں تبدیل کرنے کے بعد شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند عسکری گروہ داعش سے تعلق رکھنے والی جہادی خواتین کو شام بھیجے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ 

ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی عمر شاہد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان سے پیسے جمع کرکے داعش کو شام بھیجنے اور دہشت گردی میں مالی معاونت کے حوالے سے کافی عرصے سے تفتیش جاری تھی اور آخر کار سی ٹی ڈی نے کراچی میں کینٹ سٹیشن کے قریب محمد عمر بن خالد نامی شخص کو حراست میں لیا۔ 

عمر شاہد کے مطابق محمد عمر بن خالد کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں فائنل ایئر کے طالب علم ہیں اور ان کے فون سے لی گئی معلومات کے مطابق ان کے فون میں رقم کی منقلی والا اکاؤنٹ تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم لوگوں سے چندہ اس اکاؤنٹ میں منگوا کر حیدرآباد میں موجود ایک اور ملزم ضیا کو بھیجتا تھا، جو پاکستانی کرنسی کو پہلے امریکی ڈالروں میں اور پھر بٹ کوئن میں تبدیل کرکے شام منتقل کرتا تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت ملزمان ایک سال کے اندر دس لاکھ ڈالر منتقل کر چکے ہیں۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق محمد عمر بن خالد کا شام میں جن خواتین سے رابطہ ہوا وہ پاکستانی خواتین ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے داعش سے منسلک جہادی خواتین کی مالی معاونت کے لیے فنڈز اکٹھے کرتی ہیں۔  

پاکستان: بٹ کوئن کے ذریعے داعش کی مالی معاونت کا انکشاف

دوسری جانب ملزم عمر بن خالد کے حوالے سے جاننے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی کہ 'عمر بن خالد این ای ڈی یونیورسٹی میں مکینیکل انجینیئرنگ کے طالب علم تھے، تاہم سیکنڈ ایئرمیں وہ فیل ہوگئے اور بعدازاں فائنل ایئر میں وہ رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔'

جدید دور میں فنڈنگ کے جدید طریقے

یاد رہے کہ بٹ کوئن پر پاکستان میں پابندی ہے، تاہم سی ٹی ڈی کی اس گرفتاری سے پاکستان میں اس جدید ٹیکنالوجی کے شدت پسند سرگرمیوں میں استعمال ہونے کا ثبوت ملا ہے۔

اس انکشاف کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ سیکورٹی کےادارے شدت پسند عناصر جو جدید طریقوں اور ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرکے ملک کے اندر دہشت گردی کے سہولت کار بن کر ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے اور انکے خلاف سخت کارروائی عمل میں لایا جائے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: