
رپورٹ کے مطابق موریتانیہ کے ۲۰۰ علما اور ائمه مساجد نے فتوی میں کہا ہے « اسرائیل جو فلسطین و بیتالمقدس پر قابض ہوچکا ہے اس سے رابطہ حرام ہے».
مذکورہ علما اور مساجد کے ائمہ نے نوکشوات شہر کی مسجد «التوفیق» ایک غاصب رژیم سے تعلقات کی بحالی ایک جرم اور قتل کے مساوی ہے۔.
موریتانیہ کے علما نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں۔
موریتانیہ اسلامی مرکز کے سربراہ شیخ محمد الحسن ولد الدود بھی تعلقات کو حرام قرار دینے والے علما میں شامل ہے۔
دونوں ممالک میں رابطے کی بحالی کی کاوش ٹرمپ کی حکومت انجام دے رہی تھی۔
موریتانیہ نے سال ۲۰۰۹ میں اسرائیل سے غزہ جنگ کی وجہ سے منقطع کرلیا تھا، اہم بعض زرائع دعوی کررہا تھا کہ موریتانیہ اور انڈونیشیاء اسرائیل سے تعلقات بحال کررہے ہیں۔/