
میلاد حضرت زهرا(س) کے ایام کی مناسبت سے معروف دانشور خواتین کے مقالات کے مجموعہ کی رونمائی کی تقریب «فاطمه الزهرا (س)؛ اور عصر حاضر کے فعال خواتین دانشور» سے کوثر اسلامی مرکز میں آن لاین منعقد ہوئی
نشست میں ولی فقھیہ کے نمایندے حجتالاسلام حسین روحانینژاد نے سیرت حضرت زهرا (س) اور واقعہ مباھلہ کے حوالے سے خطاب کیا۔
نماینده ولی فقیه نے آیات ۸ و ۹ سوره انسان (وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا * إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا. خدا کی دوستی میں مسکین، یتیم اور اسیر کو غذا دیتے تھے، ہم خدا کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں اور تم سے اجر نہیں مانگتے کی تلاوت کی اور حضرت زهرا (س) کی عظمت کو سراہتے ہوئے کہا: خدا اس آیت میں ناداروں کی مدد کے حوالے سے نمونہ پیش کرتا ہے۔
پروگرام کے آرگنائزر حجتالاسلام یحیی جهانگیری سهروردی نے نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا: آج کا انسان فقرو ناداری اور مشکلات سے روبرو ہے اور وہ کسی ایسے رھنما کی تلاش میں ہے جو ملک و ملکوت کے درمیان پل بنا سکے اور انکی مشکلات کا حل نکالے۔
انکا کہنا تھا کہ ان حالات میں انسان کے درد کو سمجھنے والی ہستی حضرت حوراء انسیه، صدیقه کبری کی سیرت کو دوبارہ سے پڑھنے کا بہترین موقع میسرآیا ہے۔

نشست میں معروف دانشور خواتین کے مقالات کا مجموعہ «فاطمه الزهرا (س)؛ اور عصر حاضر کے فعال خواتین دانشور» کے عنوان سے پیش اور رونمائی کی گیی جس میں ایرانی اور دیگر ممالک کی خواتین دانشوروں کے مقالات موجود ہیں۔
نشست سے عراق، ترکی، قبرس، روس و تانزانیا کے دانشوروں نے حضرت زهرا (س) بعنوان آئیڈیل کے موضوع پر خطاب کیا۔
اس میگزین یا کتاب کے لیے ستر دانشور خواتین کے مقالے ارسال کیے گیے تھے جنمیں سے چالیس کو منتخب اور شایع کیا گیا ہے جس میں ترکی، روس، قبرس ،امریکا، لبنان، تانزانیا، عراق، جرمنی و... سے خواتین کے مقالے درج ہیں۔/