
سال ۲۰۱۶ میں شیعہ عالم دین آیتالله شیخ نِمِر کی پھانسی اور دیگر واقعات سے دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات منقطع ہوا اور ڈونالڈ ٹرمپ کی بیجا حمایت نے ایران سعودی تعلقات میں مشکلات پیدا کردی۔
سعودی عرب اور ایران بعنوان دو طاقتور اسلامی یا شیعہ سنی ممالک کے تعلقات میں مختلف ادوار میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور سعودی کی جانب سے مداخلت کے الزامات سے رابطع مزید سرد مہری کا شکار ہوا۔
یمن میں مستعفی صدر منصور هادی کی حمایت میں سعودی حملہ نے تعلقات کو مزید پیچیدہ کردیا جبکہ رہی سہی کسر امریکی نے پوری کی۔
ٹرمپ کے آنے کے بعد سعودی کا پہلا دورہ، ریاض کو اسلحے کی فروخت اور ایٹمی معاہدے سے امریکی اخراج نے تیل پر جلتی کا کام کیا جبکہ سعودی نے مختلف فورم پر ایران ہراسی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
سعودی کی جانب سے ایران پر سیکولر ممالک کی نابودی کے الزامات مگر عملا عراق میں داعش کی شکست اور سیکولر ملک شام میں بشار کی حمایت کچھ اور حقایق پیش کرتی ہے۔
اس طرح کے الزامات بین الاقوامی فورم پر ریاض و تہران دونوں ممالک کو مشترکہ نقصان پہنچ رہا ہے دونوں ممالک کے بہت سے مشترکہ تعلقات ہیں جنمیں تیل سرفہرست ہے اور تیل کی گرتی قیمت دونوں ممالک پر یکساں اثر انداز ہوتی ہے۔
سیکورٹی مسائل میں بھی داعش جیسی تنظیموں کی موجودگی دونوں ممالک کے لیے یکساں خطرہ شمار کی جاسکتی ہے جس سے دفاع ضروری ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے سعودی کو تعلقات میں بہتری کے اشارے دونوں ممالک کی سردمہری کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے جس سے دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے لیے حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔/