
فرانس 24 نے ایک ڈکومنٹری رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان و پاکستان میں شیعہ ہزارہ اس وقت نشانہ بنا ہوا ہے۔
شاهزیب والا افغان صحافی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا: افغانستان کی آبادی کا بیس فیصد ہزارہ ہے جبکہ پاکستان میں چھ لاکھ سے زائد ہزارہ کوئٹہ میں رہتے ہیں جہاں داعش و طالبان کا گڑھ ہے اور یہ تشدد کا شکار ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیعہ عقیدے کے وجہ سے اکثر انکو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان و افغانستان میں تکفیری دہشت گردوں کے متعدد اڑے ہیں اور انکی سیکورٹی کا مناسب انتظام نہیں۔
پاکستان میں داعش کے حالیہ حملے کے حوالے سے میڈیا نے واقعہ کو ہزارہ شیعہ کے خلاف تشدد کا سلسلہ قرار دیا اور کہا کہ افغانستان میں سیکورٹی کی عدم فراہمی باعث بنی ہے کہ لوگوں نے دفاع کے لیے اسلحہ اٹھا لیا ہے۔
فرانس 24 نے طالبان دور میں شیعوں کی مشکل کے حوالے سے کہا: ہزارہ شیعہ طالبان کی شدت سے خوفزدہ ہے اور یہ مظلوم اقوام میں شمار ہوتا ہے۔/