IQNA

6:46 - March 04, 2021
خبر کا کوڈ: 3508982
عالمی اداروں اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کی جانب سے اس وقت یمن میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورتحال کو ایشو بنا کر سامنے لانے کی ایک بڑی وجہ یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کی تیزی سے جاری پیشقدمی ہے

یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز نے گذشتہ چند ماہ سے مارب شہر کی جانب پیشقدمی شروع کر رکھی ہے اور اس وقت وہ شہر کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں۔ یاد رہے مارب کا شہر یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا آخری گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شہر فتح ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد کے مفادات کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے۔ لہذا جارح عرب اتحاد کے اصلی حامی شدید پریشانی کے عالم میں ہیں اور جس طرح بھی ممکن ہو انصاراللہ کی پیشقدمی روکنا چاہتے ہیں۔

 

اسلامی ملک یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی جارحیت جاری ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں اور عالمی ادارے یمن میں ہونے والے سنگین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں اقوام متحدہ کا کردار انتہائی شرمناک ہے۔ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے ایک طرف یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں جارح اتحاد کے واضح جنگی جرائم اور یمنی عوام کی دردناک صورتحال کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان جرائم کے مرتکبین کے خلاف موثر اقدام انجام دینے اور حتی زبان کی حد تک مذمت کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ اپنے جائز دفاع میں مصروف مظلوم یمنی قوم کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں مصروف ہیں۔

 

اقوام متحدہ یمن جنگ کو دنیا میں بدترین انسانی بحران قرار دیتی ہے لیکن اس بحران کے حقیقی مسببین کے خلاف موثر آواز اٹھانے یا موثر اقدام انجام دینے کی بجائے کم اہمیت سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ نے یمنی شہریوں کی مدد کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کیلئے آنلائن کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں سو سے زیادہ ممالک نے شرکت کی۔ اقوام متحدہ نے گذشتہ چھ برس سے یمنی شہریوں پر انجام پانے والے اس ظلم و ستم پر آنکھیں موند رکھی ہیں جو ہر روز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ اور مغربی ممالک سے حاصل کردہ جدید ترین ہتھیاروں کے ذریعے کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اپنی قوم کا دفاع کرنے والی انصاراللہ فورسز پر ہی قوانین توڑنے کا الزام عائد کرتی آئی ہے۔

یمن کی جنگ میں اقوام متحدہ کا جانبدارانہ کردار

پیر یکم مارچ 2021ء کے دن منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنس میں بھی اقوام متحدہ نے انصاراللہ یمن کو یمنی شہریوں کی موجودہ افسوسناک صورتحال اور اس ملک میں انجام پانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس آنلائن کانفرنس میں شریک ممالک نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ 80 فیصد یمنی شہریوں کو بیرونی امداد کی فوری ضرورت درپیش ہے۔ کانفرنس میں شریک ممالک نے ماضی کی کانفرنسوں کی طرح اس بار بھی یمن میں شدید انسانی بحران پیدا ہونے کے حقیقی مسببین یعنی امریکہ، مغربی ممالک اور خطے میں ان کے اتحادی عرب ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ اسی طرح انہوں نے اس حقیقت پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کی کہ یمن کے موجودہ بحرانوں کی بنیادی وجہ اس پر تھونپی گئی جنگ ہے۔

 

عالمی اداروں اور امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کی جانب سے اس وقت یمن میں انسانی حقوق کی افسوسناک صورتحال کو ایشو بنا کر سامنے لانے کی ایک بڑی وجہ یمن آرمی اور انصاراللہ فورسز کی تیزی سے جاری پیشقدمی ہے۔ یمن آرمی اور عوامی رضاکار فورسز نے گذشتہ چند ماہ سے مارب شہر کی جانب پیشقدمی شروع کر رکھی ہے اور اس وقت وہ شہر کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں۔ یاد رہے مارب کا شہر یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا آخری گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ شہر فتح ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد کے مفادات کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے۔ لہذا جارح عرب اتحاد کے اصلی حامی شدید پریشانی کے عالم میں ہیں اور جس طرح بھی ممکن ہو انصاراللہ کی پیشقدمی روکنا چاہتے ہیں۔

 

امریکہ اور مغربی ممالک سمیت اقوام متحدہ اور دیگر اداروں نے یہ واویلا شروع کر رکھا ہے کہ مارب میں موجود کروڑوں عام شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان ممالک اور اداروں کو یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی جرائم دکھائی نہیں دیتے۔ یہ ممالک سعودی عرب کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد کی بمباری کو نہیں دیکھتے جس نے یمن کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور یمنی شہریوں کو شدید غذائی قلت اور غربت و افلاس کا شکار کر ڈالا ہے۔ اقوام متحدہ اور مغربی طاقتیں سعودی حکمرانوں پر یمنی شہریوں کا قتل عام بند کرنے کیلئے دباو ڈالنے کی بجائے انصاراللہ پر دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ مارب کی جانب پیشقدمی روک دے اور اس شہر پر بیرونی قبضہ باقی رہنے دے۔

 

مارب کا شہر دارالحکومت صنعا کے مشرق میں 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر کے قریب یمن کے تیل کے ذخائر بھی پائے جاتے ہیں جبکہ ملک کے شمال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا آخری گڑھ بھی شمار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس شہر کی اسٹریٹجک اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس شہر میں دس لاکھ کے قریب جلاوطن بھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سیاسی اور فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارب شہر پر انصاراللہ یمن کا قبضہ سعودی عرب کی سربراہی میں جارح عرب اتحاد پر کاری ضرب ثابت ہو گا۔ اس شہر پر قبضے کے بعد سعودی عرب کی سرحد پر واقع ملک کے شمالی علاقے مکمل طور پر انصاراللہ یمن کے کنٹرول میں آ جائیں گے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: