ہندوستان کے صوبے اترپردش کے شیعہ وقف بورڈ کے ارکان کی جانب سے گستاخ قرآن وسیم کو منتخب کئے جانے پر علماء کی طرف سے مذمت اور اس کے بائکاٹ کا مطالبہ جاری ہے۔
مختلف علاقوں کے علماء اتحاد کے ساتھ اس کی مذمت کررہے ہیں۔
شہروں، اضلاع اور صوبوں کی سطح پر بنی ہوئی علماء کی مجلسیں اور کمیٹیاں اس سلسلہ میں عوام کو آگاہ کرنے کا کام مسلسل انجام دے رہی ہیں۔
خود عوام میں بھی اس سلسلہ میں کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور ان کا سوال ہے کہ شیعوں کے اوقاف پر ایسے لوگ کیونکر قابض ہوگئے ہیں۔ جو لوگ قرآن کا احترام نہ کرسکتے ہوں وہ وقف کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ اگر علماء اپنی حق بات پر اٹل رہے اور عوام نے بھی ان کا ساتھ دیا تو وہ دن دور نہیں جب اوقاف ایسے افراد کے ہاتھوں آجائے جو شریعت کے احکام بھی جانتے ہوں اور دین کے معاملہ میں امین بھی ہو۔