
رپورٹ کے مطابق مستند زرائع کا کہنا ہے کہ سامان سے لدی بڑی کشتی میں آگ بھڑک اٹھی جو شمالی اوقیانوس میں جارہی تھی اور ممکنہ طور پر کشتی کو نامعلوم اسلحے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ اسرائیلی کشتی جدہ بندرگاہ پر توقف کے بعد کشتی امارات کی سمت گامزن تھی، کشتی پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
المیادین کے مطابق مذکورہ کشتی اسرائیلی ملکیت میں ہے تاہم ممکنہ طور پر کشتی کے اسٹاف غیر اسرائیلی معلوم ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے ایک کروڑپتی اسرائیلی تاجر کی کشتی کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔/