
رپور ٹ کے مطابق ترک صدر نے استنبول میں «سورپ ٹاکاوور» کلیسا پر حملہ اور اس کے بعد ڈانس کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو مذہب کی تحقیر قرار دیا۔
ترک حکام ، مئیر اور حزب عدالت کے رہنماوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
شدت پسند قوم پرستوں نے کلیسا پر چڑھ کر توہین آمیز حرکات کیے اور کلیسا کے چھت پر رقص کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دیگر افراد نے کلیسا کے باہر شور مچایا اور توہین کے مرتکب ہوئے۔
اس حملے کی تصاویر وایرل ہونے پر اعتراضات کا وسیع سلسلہ شروع ہوا ہے۔
وزیر داخلہ سلیمان سویلو، حزب عدالت کے ترجمان عمر چلیک، اور ڈپٹی اسپیکر نعمان کورتولموش نے واقعے کی مذمت کی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے اور مجرموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
عمر چلیک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا : ہم اس شرم آور اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو تمام مذاہب کی بے احترامی شمار کرتے ہیں اور ملوث افراد کو سزا ملے گی۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ادارے کے سربراہ فخرالدین آلتون نے کہا: آرمینین کلیسا کی توہین کی شدید مذمت کرتے ہیں، عقیدے کی آذادی اور عوام کی آزادی سب کا حق ہے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔/