پشاور کے بعد کوئٹہ میں طالبان حامی ریلی

IQNA

پشاور کے بعد کوئٹہ میں طالبان حامی ریلی

20:00 - July 16, 2021
خبر کا کوڈ: 3509812
بلوچستان سے متصل افغانستان کے اہم علاقے میں اسپین بولدک میں افغان طالبان کے آنے کے بعد کوئٹہ میں چند موٹر سائیکل سواروں نے بدھ کے روز ان کے حق میں مظاہرہ کیا۔
سیاست نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر ان کی جو وڈیو شیئر ہوئی اس میں وہ کوئٹہ کے سرکاری اور حکومتی حوالے سے ایک اہم علاقے سے گزرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
 
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور وہ صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
 
یہ موٹر سائیکل سوار بدھ کو اس وقت باہر آئے جب سہہ پہر کو افغان طالبان نے یہ تصدیق کی بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل افغانستان کا سٹریٹیجک علاقہ اسپین بولدک مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں آگیا ہے۔
 
واضح رہے کہ اسپین بولدک پاکستان اور افغانستان کے صوبہ قندھار اور جنوب مغربی صوبوں کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستوں کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے۔
 
اس علاقے سے روزانہ نہ صرف لوگوں کی بہت بڑی آمدورفت ہوتی ہے بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے علاوہ دیگر مال بردار گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد یہاں سے گزرتی ہے۔
 
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ماضی میں افغان طالبان کی حمایت میں جلسے اور جلوس ہوتے رہے ہیں۔
 
لیکن بدھ کو موٹر سایئکل سواروں نے جو ریلی نکالی اس کے حوالے سے مختصر سی ویڈیو سوشل میڈیا پرشیئر کی گئی لیکن اس میں یہ معلوم نہیں ہورہا ہے کہ یہ کون لوگ ہیں۔
 
ان لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں تھی اور یہ چند موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔
 
تاہم ان لوگوں کی ہاتھوں میں افغان طالبان کے جھنڈے تھے اور ان کے علاوہ کسی اور تنظیم کے جھنڈے نظر نہیں آرہے ہیں۔
 
یہ ویڈیو جس علاقے میں بنائی گئی ہے اس کے بارے میں ویڈیو میں جس شخص کی آواز ریکارڈ ہے اس کے مطابق 'مین چوک سول سیکریٹریٹ کوئٹہ'۔
 
یہ کوئٹہ کا ایک انتہائی اہم علاقہ ہے جس کے ساتھ نہ صرف سول سیکریٹریٹ ہے بلکہ اس کے قریب ہی وزیر اعلیٰ ہاﺅس اور گورنر ہاﺅس بھی واقع ہیں۔
 
ان اہم دفاتر کے علاوہ اس چوک پر افغانستان کا قونصل خانہ بھی واقع ہے۔
 
یہ مختصر سی ویڈیو صرف اس علاقے کی ہے اس کے بعد یہ لوگ کہاں گئے اس کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا کیونکہ کسی اور علاقے سے کوئی اور ویڈیو سامنے نہیں آئی۔
 
اس سلسلے میں جب ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اظہر اکرام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی بھی کارروائی کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا
نظرات بینندگان
captcha