IQNA

جورج واشنگٹن استاد ایکنا نیوز سے:
10:19 - July 18, 2021
خبر کا کوڈ: 3509827
تہران(ایکنا) مائیکل بارنٹ کے مطابق امریکہ کی افغانستان میں موجودگی فضول رہی اور جو یہاں رہنے پر اصرار کرتے ہیں ان کے پاس بھی کوئی راہ حل نہیں۔

ایکنا نیوز کے مطابق جوبائیڈن کی حکومت سے مغربی ایشیاء میں حالات سنگین تر ہوتے جارہے ہیں اور ان میں سے ایک امریکی انخلا ہے جہاں طالبان کی گرفت مضبوط تر ہوتی جارہی ہے جبکہ ایران- امریکہ مذاکرات کا نتیجہ بھی واضح نہیں۔

 

جورج واشگٹن میں الیوٹ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشن کے استاد مایکل اِین بارنٹ(Michael N. Barnett)، جو آئی آر تھیوریز اور بین الاقوامی سیاست میں ماہر مانے جاتے ہیں انہوں نے ایکنا نیوز سے گفتگو کی ہے۔

مائیکل بارنٹ نے افغانستان میں امریکی انخلا کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اگر امریکی آگاہانہ طور پر افغانستان سے نکلنے کا سوچا ہے تو یقینا اس سے انکو نقصان ہوگا۔

افغانستان میں بیس سالہ موجودگی کا نتیجہ صفر

انکا کہنا تھا کہ امریکی موجودگی کے علاوہ دیگر آپشن موجود نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بنے گا۔

 

مائیکل بارنٹ نے افغانستان سے پسپاِئی کو حماقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماقت کی تعریف یہ ہے کہ ایک غلطی دوبار دہرایا جائے کہ شاید اسکا نتیجہ مختلف نکلے۔

 

انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں بیس سالہ موجودگی کا نتیجہ صفر رہا ہے اور مزید رہنے کے صورت میں کوئی آپشن انکے پاس نہیں۔

افغانستان میں بیس سالہ موجودگی کا نتیجہ صفر

مائیکل بارنٹ نے غزہ جنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات کا نتیجہ نہیں نکلا ہے اور ٹرمپ ان ممالک میں اختلاف ختم کرنے کے قریب تھا جبکہ بائیڈن غیرفعال ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے ممالک جنکے مفادات فلسطین سے وابستہ نہ تھے انہوں نے امریکی حلیف اور اسرائیلی تعلقات سے فایدہ اٹھانے کے لیے تعلقات بنانے کا راستہ اپنایا۔

جورج واشنگٹن کے استاد کا کہنا تھا کہ امریکہ کا ایرانی معاہدے میں دوبارہ شمولیت مسئلہ نہیں تاہم امریکہ اطمینان چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ پہلے معاہدے سے بہتر ہو۔

انکا کہنا تھا کہ معاہدے سے امریکی اخراج کے بعد ایران نے تحریک آمیز اقدامات کیے جبکہ ٹرمپ کی عاید کردہ پابندیوں نے ایران کو نقصان پہنچایا اور اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی آزمایش میں مصروف ہیں۔

 

مائیکل بارنٹ نے معاہدے میں امریکی واپسی کو امکان پذیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن بہتر معاہدے کی کوشش میں ہے جو اوباما دور میں ہوا ہے مگر میرا خیال ہے کہ دونوں ممالک ایک معاہدے پر آخر کار رضامند ہوجائیں گے۔

 

انکا کہنا تھا کہ ایران میں نئے صدر سے تہران – واشنگٹن رابطے میں فرق نہیں پڑے گا اور بائیڈن بھی موجود صورتحال کو حفظ کرنے کی کوشش میں ہے۔/

 

3983522

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: