
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
یہ اجلاس طالبان کے افغانستان میں عبوری حکومت کے اعلان کے ایک روز بعد منعقد کیا جارہا ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں عمومی چیلنجز دور کرنے اور اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے ابھرتے ہوئے مواقع کے ادراک کے لیے افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجلاس افغانستان کے پڑوسیوں کو پُرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا جو مضبوط معاشی روابط قائم کرنے اور رابطے کے ایجنڈے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
اس سے قبل افغانستان کے لیے علاقائی ممالک کے نمائندگان اور سفارتکاروں کا اسی طرح کا ایک اجلاس 5 ستمبر کو منعقد ہوا تھا۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پڑوسیوں کا ملک کے استحکام میں اہم کردار ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک پرامن، مستحکم، متحد، خودمختار و خوشحال افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ، عوام کے عوام سے رابطے اور خطے کی سلامتی میں کردار ادا کرے گا۔