'پنج شیر میں پاکستان کے طالبان کو مدد فراہم کرنے کے الزامات مضحکہ خیز ہیں'

IQNA

'پنج شیر میں پاکستان کے طالبان کو مدد فراہم کرنے کے الزامات مضحکہ خیز ہیں'

15:25 - September 10, 2021
خبر کا کوڈ: 3510199
مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے آئی ایس آئی سربراہ کے دورے پر کہا کہ ان سے پہلے امریکی انٹلی جنس چیف کابل کیوں گیا تھا ؟

ڈان نیوز کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام ’سی این این کنیکٹ دی ورلڈ‘ میں میزبان بیکی اینڈرسن نے افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں اور ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان میں ’غیر ملکی مداخلت کی مذمت کے بارے میں معید یوسف سے سوال کیا۔

شو کی میزبان نے پوچھا کہ پاکستانی فوج نے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پنج شیر میں طالبان کے مخالفین پر حملوں میں مدد فراہم کی؟ جس کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ’میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ مضحکہ خیز ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ کابل کی گزشتہ حکومت کی جانب سے قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا جس پر بدقمستی سے بین الاقوامی برادری نے بھی یقین کرنا شروع کردیا کیوں کہ وہ اپنی ناکامی پر بات نہیں کرنا چاہتی‘۔

بالخصوص پاکستان کی جانب سے پنج شیر میں طالبان کی ڈرون سے مدد کے الزامات کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے ایک کاغذ دکھایا جو بھارتی نیوز چیننلز کےاسکرین شاٹس کا تھا جو پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلا رہے تھے۔

کاغذ پر ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ برطانیہ کے علاقے ویلز میں ایک امریکی طیارے کی پرواز ہے جسے بھارت کے مرکزی میڈیا نے ایسا بنا کر پیش کیا کہ جیسے پاکستان پنج شیر میں کچھ کررہا ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’بھارت نے (پاکستان کے خلاف) جعلی نیوز نیٹ ورک بنانے میں لاکھوں ڈالرز خرچ کیے ہیں‘۔

بیکی اینڈرسن نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے معید یوسف سے افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی سوال کیا۔

جس پر معید یوسف نے کہا کہ ّآئی ایس آئی کے سربراہ سے بہت پہلے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کیوں افغانستان گئے تھے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد افغانستان سے منسلک ہے اور سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت سے رابطہ کرنا تھا، آئی ایس آئی کے سربراہ نے کابل کا دورہ کیا اور وہ دوبارہ بھی کریں گے۔

مشیر قومی سلامتی نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ دیگر ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان سے مدد مانگی تھی اور اس محاذ پر بھی تعاون درکار تھا۔

کسی سازشی تھیوری میں پاکستان کے ملوث ہونے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی منطق نہیں کیوں کہ دورے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ سے میڈیا نے انٹرویو بھی کیا جو اس بات کی نفی ہے کہ وہ کسی 'خفیہ مشن' پر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اپنےقومی مفاد کا تحفظ پاکستان کا حق ہے اور وہ افغانستان سے رابطہ کر کے یہ کرتا رہے گا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو سازشی نظریات سے آگے بڑھنے اور عام افغان کے فائدے کے لیے تعاون کر نے کی ضرورت ہے۔

معید یوسف نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام میں اسلام آباد کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک خودمختار ملک ہے۔

نظرات بینندگان
captcha