ٹی ایل پی کو ’کالعدم‘ کی فہرست سے نکالنے کیلئے پنجاب کابینہ کا منصوبہ تیار

IQNA

ٹی ایل پی کو ’کالعدم‘ کی فہرست سے نکالنے کیلئے پنجاب کابینہ کا منصوبہ تیار

8:35 - November 04, 2021
خبر کا کوڈ: 3510571
پنجاب کابینہ کمیٹی برائے امن و امان نے وفاقی حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مابین معاہدے کے بعد اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت ٹی ایل پی کو ’کالعدم‘ کی فہرست سے نکالنے کے لیے منصوبہ تیار کرلیا۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر مملکت علی محمد خان کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے پہلے ہی ٹی ایل پی اور اس کی قیادت کو ریلیف دینے اور امن و امان اور معاشی بحران کو حل کرنے کے طریقوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

حکومت اور ٹی ایل پی کے معاہدے کی تیاری میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پنجاب کے وزیر قانون بشارت راجہ کی صدارت میں ہوا اور وزیر اعلیٰ کی منظوری اور وفاقی حکومت کو پیش کرنے کی سفارشات کو حتمی شکل دی۔

کمیٹی میں شامل ایک ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی نے ٹی ایل پی پر عائد ’کالعدم‘ کا ٹیگ ہٹانے کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا اور اسے منظور کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی اپنی سفارشات 36 گھنٹوں کے اندر وزیر اعلیٰ کو پیش کرے گی اور وزیراعلیٰ پنجاب حکومت کی سفارشات حتمی فیصلے کے لیے وفاقی حکومت کو پیش کریں گے۔

اس ضمن میں اسٹیئرنگ کمیٹی کے کنوینر وزیر مملکت علی محمد خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو معاہدے کے تحت رہا کیا گیا ہے، اس لیے کابینہ کمیٹی نے فورتھ شیڈول میں شامل ٹی ایل پی کارکنوں کو فاسٹ ٹریک پر ریلیف دینے کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اگر ٹی ایل پی کے کارکنان جیلوں میں ہیں تو پنجاب حکومت ان کی ضمانت کی درخواست دیں تو وہ مخالفت یا مزاحمت نہیں کرے گی۔

تاہم ذرائع نے بتایا کہ اے ٹی اے سیکشنز سمیت گھناؤنے الزامات کے تحت درج کیے گئے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے کارکنان متعلقہ عدالتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوں گے۔

بشارت راجہ نے کہا کہ کابینہ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان اعتماد کی کمی کو کم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سامنے سعد رضوی کی نظر بندی کا معاملہ بے نتیجہ رہے گا کیونکہ نوٹی فکیشن کے مطابق نظر بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حراست کا معاملہ 6 نومبر کو وفاقی جائزہ بورڈ کے ذریعے اٹھایا جائے گا۔

نظرات بینندگان
captcha