
سوشل میڈیا کے مطابق علامہ ناظرعباس تقوی نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے منظر عام پر آنے کے بعد سے پوری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے اور غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے جس میں شیعہ مسلک کو ملیٹنٹ اور عسکری سیل کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے
نومبر 16, 2021
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکریٹری علامہ سید ناظرعباس تقوی نے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ CTD کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن جس میں شیعہ مکتب فکر کے خلاف لفظ شیعہ ملیٹنٹ سیل کا استعمال کیا گیا ہے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
اپنے ایک مذمتی ویڈیو پیغام میں علامہ ناظرعباس تقوی نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے منظر عام پر آنے کے بعد سے پوری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے اور غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے جس میں شیعہ مسلک کو ملیٹنٹ اور عسکری سیل کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے ۔ ان الفاظ کے استعمال سے شیعہ مکتب فکر کی توہین کی گئی اور کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی گئی ہےجوکہ کسی صورت ہمارے لیئے قابل قبول نہیں ہے ۔
اگر سی ٹی ڈی کسی شخص کے قاتل کو پکڑا چاہتی ہے تو ضرور پکڑے لیکن قاتلوں اور دہشت گردوں کا کوئی مذمت و مسلک نہیں ہوتا۔ شیعہ قوم کے ہزاروں افراد کو ملک کے کونے کونے میں چن چن کر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی دوسرے مسالک کانام لے کر انہیں مسالک اور مکاتب کو ہی دہشت گرد اور عسکریت پسند کہنا شروع کردیں۔
علامہ ناظرعباس تقوی نے کہا کہ سکیورٹی اداروں اور ریاستی حکام کو سوچنا چاہئے کے وہ اس ملک کہاں لیکر جارہے ہیں، سی ٹی ڈی کے اس متعصبانہ نوٹیفکیشن نے8کروڑ شیعیان حیدرکرارؑ کی دل آزاری کی ہے اور ان کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ہم نے متقدر اداروں اور شخصیات سے رابطوں اور ملاقاتوں کا آغازکیا ہے، ہم وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، آئی جی سندھ مشتاق مہراور سی ٹی ڈی حکام سےبھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس متعصبانہ نوٹیفکیشن سے لفظ شیعہ ملیٹنٹ سیل کو فوری طور پر حذف کیا جائے یہ الفاظ مکتب تشیع کی توہین کا سبب بنے ہیں جس نے ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے ۔