IQNA

14:44 - November 28, 2021
خبر کا کوڈ: 3510750
مصر کے عوامی حلقوں میں گذشتہ عرصے کے دوران پھیلائی جانے والی اطلاعات جس کے مطابق بل نمازیوں سے لے جائے گی اس خبر نے تنازع کی شکل اختیار کرلی ہے

دنیا نیوز کے مطابق مصر کے عوامی حلقوں میں گذشتہ عرصے کے دوران پھیلائی جانے والی اطلاعات نے تنازع کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست نمازیوں سے مساجد کے لیے بجلی کے بل وصول کرے گی۔

حکام نے اس معاملے کی مکمل تردید کی اور اس بات پر زور دیا کہ وزارت اوقاف مساجد کے اخراجات اور ان کے نتائج کی ذمہ دار ہے۔

وزارت اوقاف کی طرف سے جاری کردہ سرکلر کا بل کی ادائیگی کے عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مساجد اور ان کے لوازمات میں پری پیڈ میٹروں کی تنصیب کو مکمل کرنے کے طریقہ کار سے ہے جو وزارت بجلی کے ساتھ تعاون کے منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسجد کے استعمال کے لیے ایک میٹر نصب کیا جائے گا اور اس کے استعمال کی قیمت وزارت برداشت کرے گی۔

اگرچہ حکام نے ان افواہوں کی مکمل تردید کی لیکن یہ تنازع اب بھی موجود ہے۔ کچھ لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آئندہ موسم گرما میں مساجد میں ایئر کنڈیشنرز کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مصر کی وزارت اوقاف نے ایک سال میں 1700 نئی مساجد کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ وزارت اوقاف نے واضح کیا کہ دو میٹر مختص کیے گئے ہیں۔ ایک روشنی کے لیے اور دوسرا ایئر کنڈیشنرز کے لیے جو نئی تعمیر ہونے والی مساجد میں نصب کیے جائیں گے۔

وزارت اقاف نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک سال میں 1,700 سے زیادہ مساجد کھولی ہیں جن میں سے 1500 سے زیادہ مساجد مکمل طور پر نئی ہیں یا ان کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: