
الجزیرہ نیوز کے مطابق اس اس منصوبے میں جولان کی بلندیوں پر آبادی اور گھروں کی تعیمر کا خصوصی پروگرام شامل ہے۔
صھیونی وزیراعظم نفتالی بنٹ سے اس منصوبے کو سال ۱۹۶۷ کے بعد سے سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جسمیں آبادی کا بڑا پروگرام شامل ہے۔
اس منصوبے میں دو جدید آبادی جنمیں سات ہزار منازل تعمیر کرنے کا پانچ سالہ پروگرام شامل ہے۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صھیونی رژیم ٹرمپ فیصلوں کی روشنی میں جولان پر بڑی آبادی کا منصوبہ پیش کررہا ہے، ٹرمپ نے تمام بین الاقوامی قوانین کا پامال کرتے ہوئے جولان ہائیڈز کو صھیونی رژیم میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ماہرین کے مطابق صھیونی رژیم کو اس کا تصور نہیں کہ وہ کسی دن ممکن ہے شام سے معاہدہ کے تحت اس علاقے سے نکل جانے پر مجبور ہوسکتا ہے۔
صھیونی میڈیا کے مطابق اس رژیم کا ارادہ ہے کہ جولان میں آبادیوں میں اضافہ کیا جائے اور یہاں کی آبادی کو پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچایا جائے۔
نفتالی بنٹ نے اکتوبر میں اعلان کیا تھا کہ انکی حکومت کا ارادہ ہے کہ دو جدید آبادی یا شہر تعمیر کیا جائے جو جولان کی بلندیوں میں واقع ہوں گے۔
صھیونی رژیم نے سال ۱۹۸۱ میں جولان کو زبردستی اپنے علاقے میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کو امریکہ کے علاوہ کسی ملک نے قبول نہیں کیا ہے۔/