
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں مسیحیوں کے تین مذاہب، مختلف قومیں اور مختلف زبانیں بولنے والے آباد ہیں،اس کے باوجود وہاں پر ایک یونین کا قیام عمل میں لایا گیا ہےیہی قومیں آپس میں عالمی جنگیں لڑ چکی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں انھوں نے ساڑھے سات کروڑ سے زیادہ انسانوں کو قتل کیا ہے لیکن آج ان کی ایک کرنسی اور ایک پارلیمنٹ ہے وہ یکساں اقتصادی مفادات کے لیے اکٹھے ہیں۔ اسلامی ممالک بھی مختلف مسالک، قومیتوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود ایسی ہی ایک یونین تشکیل دے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارعالمی ادارہ تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ آیت اللہ ڈاکٹر شہریاری نے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ یورپ کے اتحاد کی وجہ دنیاوی مفادات اور معیشت ہے۔ مسلمانوں کے پاس اتحاد کا محور قرآن کریم اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔
ڈاکٹر شہریاری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رسالت مآبؐ کے ساتھ ہوں۔ قرآن بھی والذین معہ کہتا ہے اور وہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم رسولؐ اللہ کے ساتھ ہوں۔سب مل کر ان کا دامن تھام لیں۔ ڈاکٹر شہریاری نے ملی یکجہتی کونسل کی اتحاد امت کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ سامراجی قوتیں اتحاد امت کے خلاف ہیں اور اس سلسلے میں مختلف حیلے بہانے تراشتی رہتی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے کہا کہ اس وقت اہم ترین کام اتحاد امت ہے۔ ملی یکجہتی کونسل اور ادارہ تقریب مذاہب اسلامی یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ جو بھی شخص اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کرے وہ دشمن کا آلہ کار اور قابل نفرت ہے۔ فلسطین، روہنگیا، ہندوستان، یمن اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ ایران کے علاوہ کسی اسلامی ملک نے کشمیر کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔
صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر نے مزید کہا کہ اسرائیل کی فضائیہ کے سربراہ کو کیسے جرأت ہوئی کہ وہ ایران پر حملے کی دھمکی دے۔ ان سب سازشوں کا مقابلہ اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ایران کی رہبر کونسل کے رکن مولانا نذیر احمد سلامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل ایک نعمت عظمیٰ ہے۔ کونسل کی کوششوں سے پاکستان میں ہم آہنگی کی فضا کو فروغ ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیالیس سال پہلے پاکستان میں بالکل اور طرح کی صورت حال تھی۔اب جو اتحاد کی فضا اس کونسل کی کوششوں سے دکھائی دے رہی ہے اس سے میرا دل بہت خوش ہوا ہے۔