
امریکن اسلامی کونسل CAIR، کے مطابق مذکورہ رپورٹ «اسلامی فوبیا مرکزی دھارے میں» کے عنوان سے
پینتیس فلاحی اور خیراتی ادارے ۲۰۱۷ تا ۲۰۱۹ کے ناموں کا درج کیا گیا ہے جنہوں نے تقریباً ۱۰۶ ملین ڈالر چھبیس اسلام مخالف پروجیکٹس میں وقف کیے ہیں۔
اسلامی کونسل CAIR کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سالوں میں اسلام مخالف اداروں کو جاری فنڈ میں کمی آئی ہے تاہم خیراتی زرایع سے وافر مقدار میں فنڈ جمع کیے جاتے ہیں کو آخر میں مسلم فوبیا پر خرچ ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسلامی ہراسی سال ۲۰۱۹-۲۰۲۰ میں اکثر واقعات مساجد کے خلاف، اسلامی سرگرمیوں، اسکولوں کے حوالے سے درج ہوئے ہیں، رپورٹ ممکنہ طور پر منگل کو نشر ہوگی۔
اسلامی کونسل کی ترجمان حذیفہ شہباز کا اس حوالے سے کہنا تھا: کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسلامی ہراسی کا سلسلہ جاری ہے اور اس پر کافی فنڈ جاری ہوتا ہے اگرچہ اس حوالے سے رسمی فنڈ میں کمی آئی ہے تاہم مختلف دیگر زرایع سے ملین کے حساب سے ایسے اداروں کو امداد ملتی ہیں جو اسلامو فوبیا پر کام کرتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ آج انسانی حقوق کے چاہنے والوں کو سب سے زیادہ اس امر کی ضرورت ہے کہ وہ اس طرح کی نفرت انگیز پالیسیوں سے نجات کے لیے اقدامات کریں تاکہ اس طرح سے متعصب لوگوں کو سرگرمیوں سے روکا جاسکے۔
سال ۲۰۱۹ اور ۲۰۲۰ میں اسلامی کونسل CAIR کے مرکزی دفتر واشنگٹن میں چھ ہزار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جنمیں تعصب، اذیت و آزار اور فیزیکل حملوں کے واقعات شامل ہیں۔/