IQNA

6:34 - March 17, 2022
خبر کا کوڈ: 3511517
وہ واحد شاعر تھے، جنہوں نے چھٹی صدی ہجری کے آخر تک تمثیلی شاعری کو بلند ترین سطح پر پہنچایا
فارسی زبان کے عظیم ایرانی شاعر اور افسانہ نگار، حکیم نظامی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام الیاس، کنیت ابو محمد اور کچھ لوگوں کے مطابق ان کو نظام الدین  یا جمال الدین کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ حکیم اپنے آپ کو غیب کا آئینہ اور ذکر و دم مسیح کے حامل سمجھتے تھے۔
در سحر سخن چنان تمامم             کایینه غیب گشت نامم
شمشیر زبانم از فصیحی                دارد دم معجزه مسیحی
ان کی تاریخ پیدائش اور وفات کے حوالے سے مورخین میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے، لیکن ان کے اشعار و آثار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 530 کو پیدا ہوئے اور 614 کو دنیا  سے کوچ کرگئے۔ نظامی کی فارسی میں وجہ شہرت ’’مخمس‘‘ کی تخلیق ہے۔ ان کی خمسہ نظامی کو پنچ گنج (پانچ خزانہ) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
 
افسانوں کی تخلیق و ترتیب میں انہیں بہت سے شاعروں پر، جنہوں نے ان کی پیروی کی، واضح برتری حاصل ہے۔ حکیم نظامی ایک شاندار اور قابل شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف محب وطن بھی تھے۔ انہوں نے وطن (ایران) کے مقدس نام کے بارے میں جو اشعار لکھے ہیں، وہ ان کی گرانقدر اور لافانی تصانیف میں ایک چمکتے ہوئے  ستارے کی طرح ہیں۔ ان کی پہلی مثنوی، "مخزن الاسرار"، 2،260 اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ مثنوی حکیم نظامی نے 40 سال کی عمر میں لکھی تھی اور اور یہ فارسی زبان کی اہم ترین مثنویوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے اور اس میں خطبات اور حکمت پر مشتمل بیس مضامین شامل ہیں۔ ان کی دوسری مثنوی ’’خسرو اور شیریں‘‘ کہلاتی ہے، جسے نظامی نے 576 میں مکمل کیا اور اس میں 6500 اشعار ہیں جو اتابک شمس الدین محمد، جہاں پہلوان ابن ایلدگز کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
 
تیسری، منظوم لیلیٰ و مجنون ہے، جو نظامی نے سال 584 میں لکھی، جو 4700 اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کی تالیف شروانشاهد ابوالمظفر اختان بن منوچهر نے انجام دی ہے۔ ایک اور مثنوی ’’بہرام نامہ‘‘ یا ہفت گنبد ہے، جسے شاعر نے مراغہ کے بادشاہ علاء الدین کرپ ارسلان کے نام کیا ہے۔ اس مثنوی میں 5136 اشعار ہے اور بہرام گور کی کہانی کے بارے میں لکھا گیا تھا، جو کہ ساسانیوں کی مشہور کہانیوں میں سے ایک ہے۔ نظامی کی آخری مثنوی ’’اسکندر نامہ‘‘ ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہے: ’’شرف نامہ‘‘ اور ’’اقبال نامہ‘‘ یہ مثنوی  اتابک اعظم ناصرالدین ابوبکر ابن محمد جہاں پہلوان کے نام کی ہے، جو 10500 اشعار پر مشتمل ہے۔ خمسہ کے علاوہ، انہوں نے تقریباً 20,000 اشعار پر مشتمل ایک دیوان بھی ترتیب دیا ہے، جن میں سے صرف کچھ حصہ فی الحال دستیاب ہیں۔
 
حکیم نظامی، فارسی زبان کے عظیم شاعر اور افسانہ نگار
 
نظامی کی پیدائش ایک خوشحال گھرانے میں ہوئی تھی، ان کے کاموں اور نظریات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی جوانی قرآن اور مذہبی علوم سیکھنے اور اپنے دور کی فکری اور داستانی معلومات حاصل کرنے میں گزاری۔ انہوں نے اپنے زمانے کے علوم کی تعلیم حاصل کی اور اپنے دور کے بہت سے علوم میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ ان کے اسی مہارت اور وسعت کی سبب انہیں ’’حکیم نظامی‘‘  کا لقب دیا گیا تھا۔ ان کی شاعری کے اسلوب بیان میں سب سے اہم خصوصیت ان کی جدت ہے۔ پانچ مختلف بحروں میں پانچ مثنوی لکھنے کی وجہ سے بڑے بڑے شعراء نے ان کی تقلید کرتے ہوئے مخمس لکھی ہے۔ ان کی شاعری کے اسلوب اور ان کے ہم عصروں کو خراسانی اور عراقی اسلوب کے درمیان سمجھا گیا ہے۔ ‹ اگر ہم فارسی شاعری کو تین اسالیب یا مکاتب (خراسانی، عراقی، ہندوستانی) میں تقسیم کر لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی اسلوب بیان میں عراقی مکتب کے خصوصیات زیادہ نمایاں ہیں۔
 
نظامی کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی نظموں میں عوام کی عام زندگی کی تصویر کشی کی اور اپنے زمانے کے لوگوں کے اخلاق و عادات کے مکمل آئینہ دار بن گئے۔ ان کی شاعری معاشرے کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی ہے، جو اچھائی اور برائی، بدصورتی اور خوبصورتی کا مرکب ہے۔ اپنے تصورات کی تخلیق میں انھوں نے سماجی واقعات اور عادات کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کی عام خامیوں اور بدصورتیوں کو عام لوگوں کے لیے آسان، عام اور قابل فہم انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ فردوسی کے بعد، نظامی نے اپنی پانچویں مثنوی، اسکندر نامہ کے نام سے دوبارہ ترتیب دی، جو کہ درحقیقت فردوسی کے کام کا تسلسل ہے۔ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے: شرف نامہ اور اقبال نامہ۔ اس مثنوی کو ممدوح، عصر حاضر کے شاعر، اتابک اعظم، نصرالدین ابوبکر بن محمد جہاں پہلوان، اتابکان (جو آذربایجان سے تھے)، کے نام سے لکھا گیا ہے۔ نظامی کے پانج گنجینوں میں سے آخری گنجینہ ’’اسکندر نامہ‘‘ ہے، جو دو حصوں پر مشتمل ہے: ’’شرف نامہ‘‘ جس کے 6800 اشعار ہے اور دوسرا حصہ ’’اقبال نامہ‘‘ یا خرد نامہ ہے، جو 3700 اشعار پر مشتمل ہے، جو نصر الدین ابوبکر بن محمد بن ایلدگز کے نام پر ہے۔
 
حکیم نظامی کی زندگی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ فارسی زبان کے غیر متنازعہ شاعر اور فارسی افسانہ نویسی کے رہنماء ہیں۔ سعدی کی طرح نظامی گنجوی بھی ایک خاص اور منفرد اسلوب اور طریقہ ایجاد کرنے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ فارسی میں افسانہ نگاری کا آغاز حکیم نظامی نے نہیں کیا تھا، لیکن وہ واحد شاعر تھے، جنہوں نے چھٹی صدی ہجری کے آخر تک تمثیلی شاعری کو بلند ترین سطح پر پہنچایا۔ حکیم نظامی کی موزوں الفاظ و محاوروں کے چناؤ اور نئے موضوعات اور نئے مجموعے ایجاد کرنے کی انفرادیت اور ان کے اعلیٰ تخیل نے فارسی شاعری میں ایک نیا اسلوب پیدا کیا، تاکہ حکیم نظامی کو ایران کے عظیم ترین شاعروں میں شمار کیا جا سکے اور ان کا نام اپنے مداحوں میں منفرد رکھا۔ نظامی فارسی ادب کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ حکیم نظامی خوشی کے لمحات کی تصویرکشی میں منفرد ہیں، ان کی زبان شیریں اور ان کی گفتگو خوشگوار ہے۔ جنگ کے لمحات کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے اپنی نظموں کو گیت کا رنگ دیا ہے۔ حکیم نظامی اخلاق کے پابند تھے۔ حکیم نظامی ایک صوفیانہ شاعری، فارسی ادب میں شعر و شاعری اور عشقیہ کہانیوں کے ماہر ہیں۔
 
احسان خزاعی
ثقافتی قونصلر سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ ایران، اسلام آباد

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: