
ایکنا نیوز- نماز ایک اہم اسلامی عبادت میں شمار ہوتی ہے جو صرف اسلام میں تاکید شدہ نہیں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی راز و نیاز کے لیے نماز قایم کرنے کی بات کی گیی ہے اور اکثر انبیاء نے بھی نماز پر خاصا تاکید فرمائی ہیں۔
مثال کے طور پر جب حضرت موسی(ع) نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی اور سختیوں اور مشکلات سے دوچار ہوئی تو خدا نے آرام سکون کے لیے نماز قایم کرنے کی دعوت دی:
«إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي: وہی میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری عبادت کرو اور اور میری یاد میں نماز برپا کرو» (طه/ 14).
اسی طرح سورہ بقرہ آیت 83 میں بنی اسرائیل سے پیمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ نماز کو اس پیمان میں اہم رکن قرار دیا جاتا ہے: « وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ:
جب فرزندان بنی اسرائیل سے محکم پیمان لیا گیا کہ وہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور والدین سے اور اقربا و یتیموں اور کمزورں کے ساتھ احسان کریں گے اور لوگوں سے اچھائی کے ساتھ بات کریں گے اور نماز برپا کریں گے اور زکات دیں گے۔» (بقره/ 83)
عیسائی تعلیمات میں بھی نماز اہم رکن کے طور پر بیان ہوا ہے، جب مریم مقدس (س) خدا کے حکم پر بغیر شوہر کے حاملہ ہوئی اور انکے فرزند حضرت عیسی(ع) دنیا میں آئے، عیسی (ع) نے گہوارے میں گفتگو کی: «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا؛ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا:
میں ہوں خدا کا بندہ اور اس نے مجھے پیغمبر قرار دیا اور جا رہوں بابرکت بنایا اور جب تک زندہ ہوں مجھے نماز و زکات کی سفارش کی ہے» (مریم/ 30 و 31).
قاموس مقدس کی کتاب میں نماز کے بارے میں کہا گیا ہے «نماز تمام مذاہب میں روز مرہ کی اہم عبادت کا حصہ ہے چاہے انفرادی یا اجتماعی شکل میں اور نماز سے مراد خدا سے راز و نیاز کرنا اور اس سے حاجت طلب کرنا اور شکریہ ادا کرنا جو اس نے احسانات کیے۔