ملکه الزبتھ کی موت؛ استعمار کی تلخ یادیں دوبارہ تازہ

IQNA

ملکه الزبتھ کی موت؛ استعمار کی تلخ یادیں دوبارہ تازہ

10:10 - September 15, 2022
خبر کا کوڈ: 3512726
ایکنا تہران- ملکه الیزبتھ دوم کی موت سے ایک بار پھر دنیا بھر میں برطانوی سامراج کی استعماری دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس کے دوران برطانوی استعمار کی غیرزمہ دارنہ سوچ اور ملکہ کی معذرت قابل ذکر ہے۔

ایکنا نیوز- ملکہ الزبتھ کی موت سے انکی ستر سالہ سلطنت جو 1952 سے شروع ہوتی ہے اختتام کو پہنچتی ہے اور برطانوی استعماری دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے انکی موت سے ملے جلے اثرات سامنے آئے ہیں۔

برطانوی استعماری دور کو آغاز سولویں صدی سے شروع ہوتا ہے اور یہ بتدریج ایشاء سے یورپ، افریقہ سے براعظم امریکہ تک پھیلتا چلا گیا، ایسٹ انڈیا کمپنی سال 1599 کو برطانوی استعماری دور کے آغاز کے طور پر قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کمپنی کے ایجاد نے جنوبی ایشیاء کے اہم سرمایے دار علاقوں بالخصوص ہندوستان میں سامراج کو مضبوط کیا اور اس کے بعد برطانوی سامراج نے جنوبی ایشیاء کے دیگر اقوام سے غاصبانہ تعلقات کو وسعت دی۔

 

ملکه الزبتھ کی موت؛ استعمار کی تلخ یادوں کو سوچنے کی فرصت

 

اگرچہ ملکہ الزبتھ کی ستر سالہ برطانوی سلطنت میں برطانوی شہنشاہیت بکھر گئی اور دنیا میں انکے اثر و رسوخ میں کمی آئی تاہم اس استعماری طاقت کی تلخ یادیں اب بھی باقی ہیں۔

 

ملکه الزبتھ کی موت؛ استعمار کی تلخ یادوں کو سوچنے کی فرصت

 

جنوبی ایشیاء میں ہسٹری کے استاد مو بانرجی جو ویسکانسین یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے انکا کہنا تھا کہ ملکہ کو جنوبی ایشیاء میں استعماری دور سے الگ نہیں دیکھ سکتے، انڈین نژاد استاد کا کہنا تھا کہ بہت سے ہندوستانی امید کررہے تھے کہ ملکہ الزبتھ ہندوستان میں مظالم پر معذرت کریں گی مگر ایسا نہیں کیا۔

مغربی ایشیاء میں برطانوی سامراج کی تاریخ ظلم و تباہی سے لبریز ہے۔/

4085231

نظرات بینندگان
captcha