
ایکنا نیوز- ملکہ الزبتھ کی موت سے انکی ستر سالہ سلطنت جو 1952 سے شروع ہوتی ہے اختتام کو پہنچتی ہے اور برطانوی استعماری دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے انکی موت سے ملے جلے اثرات سامنے آئے ہیں۔
برطانوی استعماری دور کو آغاز سولویں صدی سے شروع ہوتا ہے اور یہ بتدریج ایشاء سے یورپ، افریقہ سے براعظم امریکہ تک پھیلتا چلا گیا، ایسٹ انڈیا کمپنی سال 1599 کو برطانوی استعماری دور کے آغاز کے طور پر قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کمپنی کے ایجاد نے جنوبی ایشیاء کے اہم سرمایے دار علاقوں بالخصوص ہندوستان میں سامراج کو مضبوط کیا اور اس کے بعد برطانوی سامراج نے جنوبی ایشیاء کے دیگر اقوام سے غاصبانہ تعلقات کو وسعت دی۔

اگرچہ ملکہ الزبتھ کی ستر سالہ برطانوی سلطنت میں برطانوی شہنشاہیت بکھر گئی اور دنیا میں انکے اثر و رسوخ میں کمی آئی تاہم اس استعماری طاقت کی تلخ یادیں اب بھی باقی ہیں۔

جنوبی ایشیاء میں ہسٹری کے استاد مو بانرجی جو ویسکانسین یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے انکا کہنا تھا کہ ملکہ کو جنوبی ایشیاء میں استعماری دور سے الگ نہیں دیکھ سکتے، انڈین نژاد استاد کا کہنا تھا کہ بہت سے ہندوستانی امید کررہے تھے کہ ملکہ الزبتھ ہندوستان میں مظالم پر معذرت کریں گی مگر ایسا نہیں کیا۔
مغربی ایشیاء میں برطانوی سامراج کی تاریخ ظلم و تباہی سے لبریز ہے۔/
4085231