آسٹریلین سفیر کی اسلامی لباس کے ساتھ حرم امام کاظم علیہ السلام میں حاضری

IQNA

آسٹریلین سفیر کی اسلامی لباس کے ساتھ حرم امام کاظم علیہ السلام میں حاضری

12:50 - October 13, 2022
خبر کا کوڈ: 3512867
ایکنا تھران- شہر کاظمین میں اسلامی لباس چادر کے ساتھ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حرم میں آسٹریلیا کی سفیر کی موجودگی نے میڈیا کی توجہ کھینچ لی۔

شہر کاظمین میں اسلامی لباس چادر کے ساتھ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حرم میں آسٹریلیا کی سفیر کی موجودگی نے میڈیا کی توجہ کھینچ لی۔

عراق کی نون خبر رساں ایجنسی سے ایکنا کی رپورٹ کے مطابق عراق میں آسٹریلیا کی سفیر پاؤلا گینلی نے منگل کو عراق کے دو قدیمی علاقے الکاظمیہ اور الاعظمیہ کا دورہ کیا۔

آسٹریلیا کے سفارت خانے نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ گینلی ابوحنیفہ کے مقبرے کے بعد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ضریح کی زیارت کے لئے گئی تھیں تاکہ ان دینی مقامات کی اہمیت سے واقفیت حاصل کر سکیں۔

اس بیان کے مطابق آسٹریلیا کی سفیر نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حرم کی زیارت کے موقع پر کہا کہ عراق ایسا ملک ہے جو مذہب، تاریخ، ثقافت اور صلح و عشق کے لحاظ سے زرخیز ملک ہے۔ کاظمیہ اور اعظمیہ دونوں علاقے بغداد کی تاریخ کو بیان کرتے ہیں؛ اور میں جہاں بھی جاتی ہوں وہاں عراق کے لوگوں کی سخاوت، عشق اور قدر دانی دکھائی دیتی ہے۔

 کاظمیہ اور اعظمیہ بغداد کے شمال کے دو علاقے ہیں اور گزشتہ کچھ صدیوں میں اس وجہ سے مختلف بڑی تبدیلیوں کے شاہد رہے ہیں کیونکہ ایک میں عراق کے اہل سنت اور دوسرے میں عراق کے شیعہ حضرات آباد ہیں۔ 

حتی سیاسی مسائل جیسے انتخابات میں بھی یہ علاقے دلچسپ مقابلہ رکھتے ہیں۔

اعظمیہ، دریائے دجلہ کے مشرقی حصہ الرصافہ میں واقع ہے اور وہاں کوفہ کے مشہور فقیہ اور متکلم اور مذہب حنفی کے بانی ابوحنیفه النعمان بن ثابت، عرف ابوحَنیفه کی آرامگاہ ہے۔

اور کاظمیہ، دریائے دجلہ کے مغربی حصہ الکرخ میں ہے اور امام موسی کاظم و امام محمد تقی علیہما السلام کے روضے یہاں پر واقع ہیں۔

تکفیری ٹولے اور بعثیوں نے بارہا شیعہ سنی فتنے اٹھانے اور قوم و قبیلہ کے اختلافات کی آگ بھڑکانے کے لئے کاظمیہ اور اعظمیہ میں دہشت گردانہ حملے کئے۔

اعظمیہ کا علاقہ نخلستانوں اور باغوں ک سے گھرا ہوا ہے اور گذشتہ چند برسوں میں دہشتگرد گروہوں کے چھپنے کا ٹھکانہ رہا ہے۔

4091285

نظرات بینندگان
captcha