
ایکنا- اناضول نیوز کے مطابق اوزلم آغا کا خیال ہے کہ قدس میں رہنے والے ایام میں نے انکے ہنر پر کافی اثرات چھوڑے ہیں۔
آغا اپنے خطاطی و پینٹنگ کے آثار میں کبھی کسی موسیقی اور کبھی کسی شعر سے آئیڈیا لیتی ہے۔
انکے اپنے آرٹ بارے کہنا تھا: اپنے خط میں خط رقعه و نسخ سے استفادہ کرتا ہوں اور اسکی تزئین و آرایش کے لیے دلچسپ رنگوں اور پینٹنگ کا استفادہ کرتی ہوں۔
آغا کا کہنا تھا: میرا خیال ہے کہ ہر حرف کا ایک معنی اور راز ہوتا ہے اسی طرح قرآن کے حروف مقطعات ایسے ہی ہیں لہذا کبھی اپنے فن پاروں می اسکا استعمال کرلیتی ہوں۔
قدس میں زندگی کے ایام بارے میں انکا کہنا تھا کہ مقامی غنی ثقافت اہم ہے اور مشکلات کے باوجود لوگوں کی زندگی میں ایک رونق ہے۔
آغا کا کہنا تھا کہ قدس شریف میں خوشی اور امید کے جذبات و احساسات کو غاصبانہ قبضے نے متاثر کیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ میں نے کوشش کی ہے کہ مشکلات کے باوجود رونق اور امید کے جذبات کو اجاگر کروں۔
اوزلم آغا ترک خطاط خاتون ساحلی شہر ترابزون میں پیدا ہوئی ہے تاہم استنبول میں پلی بڑھی ہے اور پانچ سال سے قدس میں زندگی گزار رہی ہے۔
مقبوضہ قدس نے انکے فن پاروں میں اثرات چھوڑے ہیں جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات موجود ہیں۔/




4114760