اجتماعی مشکلات کے خاتمے میں بین المذاہب گفتگو کا کردار

IQNA

دیلیمان یونیورسٹی فلپاین کے استاد:

اجتماعی مشکلات کے خاتمے میں بین المذاہب گفتگو کا کردار

7:58 - January 23, 2023
خبر کا کوڈ: 3513651
ایکنا تھران- ماریا برناڈیٹ اِل آبررا کے مطابق بین المذاہب گفتگو سے دوسرے شعبوں میں گفتگو کا راستہ کھل جاتا ہے جس سے مشکلات کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔

ڈیلیمان یونیورسٹی فلپائن (University of the Philippines Diliman) میں تاریخ کے کرسچن استاد ماریا برناڈیٹ اِل آبررا فلپاین میں استعمار سے قبل خواتین کی حالت اور تاریخ پر تحقیق کررہا ہے۔

ماریا برناڈیٹ اِل آبررا ، نے ایکنا نیوز گفتگو میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں بڑھتی شدت پسندی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بین المذاہب ڈائیلاگ ہر تاکید کی اور کہا کہ دین پر عمل میں فائدہ اس وقت ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ جیسے مدارا اور قربانی کاجذبہ پیدا کیا جاسکے۔

ماریا برناڈیٹ اِل آبررا کا کہنا تھا

شدت پسندی جو مذہبی شدت پسندی کے حؤالے سے جانا جاتا ہے ایک منفی ردعمل ہے جس کا نتیجہ تعصب اور تشدد کے طور پر سامنے آتا ہے، مذہبی شدت پسندی اس وقت انجام پاتی ہے  جب کچھ لوگ سیاسی اہداف کے لیے اس کو عقیدے کے طور پر اپنایا جاتا ہے یعنی مذہب سے سیاسی فایدے کے لیے کام لیا جاتا ہے۔

 

فلپاین یونیورسٹی میں ہسٹری کے استاد نے بین المذاہب گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا اس سے شدت پسندی روکنے میں مدد ملتی ہے اور تمام ادیان کے پیروکار امن و محبت کے ساتھ ایکدوسرے کے نزدیک آسکتے ہیں۔

 

ماریا برناڈیٹ اِل آبررا نے آخر میں کہا: مختلف مذاہب بالخصوص مسلمان اور عیسائی کے درمیان فلپاین میں اچھے تعلقات ہیں اور انکے درمیان ایک بقائے باہمی کی فضا قائم ہے۔/

 

4113114

نظرات بینندگان
captcha