
ایکنانیوز، الوطن نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ یہ عظیم قرآنی نسخہ علی زمان ، جو ترکی کے شہر استنبول میں مقیم ہیں نے چھ سال کی روحانی اور فنکارانہ کاوش کے بعد مکمل کیا۔
علی زمان کا یہ قرآنِ کریم عربی خوشنویسی کا ایک منفرد شاہکار قرار دیا گیا ہے، جو حجم کے لحاظ سے تمام سابقہ ریکارڈز سے بڑا ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ یہ عراقی خطاط اسلامی ورثے کی احیا میں گہری وابستگی رکھتے ہیں۔
علی زمان 1971 میں عراق کے شمالی شہر سلیمانیہ کے علاقے رانیہ میں پیدا ہوئے اور نوجوانی میں ہی اسلامی خطاطی سے دلچسپی لینے لگے۔ ابتدا میں وہ زیور سازی (جواہرات سازی) کے پیشے سے وابستہ تھے، لیکن 2013 میں انہوں نے یہ پیشہ ترک کر کے خود کو مکمل طور پر فنِ خطاطی کے لیے وقف کردیا۔
مئی 2017 میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ استنبول کے تاریخی علاقے "فاتح" منتقل ہوگئے تاکہ ایک ایسا ماحول حاصل ہو سکے جو اُن کے فن کے لیے موزوں ہو۔
ان کے بیٹے رکار زمان کے مطابق ترکی میں خوشنویسی اور اسلامی فنون کو عراق کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدر دی جاتی ہے۔
علی زمان نے اپنا یہ عظیم منصوبہ 2019 میں شروع کیا۔ انہوں نے روایتی قلمِ نی اور خطِ ثلث — جو اسلامی خوشنویسی کے ممتاز اسالیب میں سے ایک ہے — کا استعمال کرتے ہوئے 4 میٹر لمبے اور 1.5 میٹر چوڑے صفحات پر قرآنِ مجید لکھا۔
یہ قرآنِ کریم سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کا حجم 2012 میں مکمل ہونے والے افغانستان کے قرآن (جس کی لمبائی 2.28 میٹر اور چوڑائی 1.55 میٹر تھی) سے بھی بڑا ہے۔
علی زمان کا کہنا ہے: یہ کام میرے لیے انتہائی مسرت کا باعث ہے، کیونکہ ایسا شاہکار تخلیق کرنا جسے بہت کم لوگ انجام دینے کی ہمت رکھتے ہیں، ایک انمول تجربہ ہے۔ اس قرآن کا ہر حرف میری روح اور میری محنت سے عبارت ہے۔

یہ منصوبہ علی زمان کے ذاتی خرچ پر انجام پایا۔ اگرچہ 2023 میں صحت کے سنگین مسائل کے باعث کچھ عرصے کے لیے یہ کام رُک گیا تھا، لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور اسے مکمل کرلیا۔/
4313574