ایکنا نیوز، الامہ ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ غازی آباد میں ایک بار پھر سماجی تشدد کی لہر پھوٹ پڑی ہے، جہاں ایک مسلمان خاندان، جس میں ایک کم عمر بچی بھی شامل تھی، کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملہ ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد نے کیا، جو اسلام مخالف نعرے بازی اور گالی گلوچ کے ساتھ انجام پایا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس نے بھارتی اور بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کی لہر پیدا کر دی۔
یہ افسوسناک واقعہ بھارت میں مذہبی تقسیم کے گہرے ہونے اور نفرت انگیز ثقافت کے فروغ کی ایک اور علامت سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ اُس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں ایک ننھی مسلمان بچی نے گوشتِ گائے کھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس ویڈیو کے بعد، باجرنگ دل اور ہندو راکشا دل جیسی شدت پسند تنظیموں سے وابستہ افراد نے اس بچی کے گھر پر حملہ کیا، اس کی والدہ کو دھمکیاں دیں اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
حملے کی قیادت داکش چودھری نامی شخص نے کی، جو نفرت انگیزی اور تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے باعث بدنام ہے۔ اس واقعے نے بھارت کے اندر اور بیرونِ ملک دونوں سطحوں پر سخت ردِعمل کو جنم دیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سیاسی رہنماؤں کے نفرت انگیز بیانات، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلائے جا رہے ہیں، تشدد کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اکثر مجرموں کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے حملے انفرادی واقعات نہیں بلکہ سماجی اور مذہبی تقسیم کے وسیع تر رجحان کا حصہ ہیں جو ملک کے شہری امن کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اُتر پردیش جو بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، کئی برسوں سے بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی کا شکار ہے۔/
4314339