
ایکنا نیوز- فیتو نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب عربی زبان میں محمد السید غُنیم کی تصنیف ہے، جس میں مصر میں فنِ تلاوتِ قرآن کی تاریخ کو مستند انداز میں قلم بند کیا گیا ہے اور مصر کے تلاوت کے 50 نامور قاریوں کی سوانحِ حیات پیش کی گئی ہے۔
یہ وہ قاری ہیں جنہوں نے مصر اور عالمِ اسلام میں اپنے سامعین پر گہرا اثر چھوڑا؛ ان میں بعض وہ ہیں جن کی شہرت دور دور تک پھیلی، جبکہ بعض نے وسیع شہرت کے بغیر ہی خلوص کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
کتاب کے مؤلف نے دستاویزی تحقیق اور تجزیے کے ذریعے قاریوں کی زندگی کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا ہے اور مصر کے مختلف مکاتبِ تلاوت اور قرآن کے صوت و لحن کی ترقی میں ان کے اثرات کی وضاحت کی ہے۔
مصنف کے مطابق «اعیانُ دولةِ التلاوة» محض ایک دستاویزی کتاب نہیں، بلکہ یہ اُن قاریوں سے وفاداری اور محبت کا اظہار ہے جو قرآن سے سچی محبت رکھتے تھے اور خالص نیت کے ساتھ اس کی تلاوت پیش کرتے رہے۔
یہ کتاب قاریوں کی سوانحِ حیات کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کی اہم فنی خصوصیات اور اُن نمایاں اوصاف کی نشاندہی بھی کرتی ہے جو ان کے مکتبِ فکر اور اسلوبِ تلاوت کو دیگر قاریوں سے ممتاز بناتے ہیں۔
اس کتاب کو دارِ ریشہ کے اشاعتی و تقسیماتی مرکز نے شائع کیا ہے، اور قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلے کے دنوں میں یہ کتاب شائقین کے لیے اسی نمائش میں دستیاب رہی ہے۔
تاریخِ تلاوت سے دلچسپی رکھنے والے افراد، علم کے متلاشی اور وہ نوجوان جو مصر کے اصیل مکتبِ قرأت کی علامتوں سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کتاب کے مطالعے سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔
ستاونواں قاہرہ بین الاقوامی کتاب میلہ 23 جنوری 2026ء کو مصر کے بین الاقوامی نمائش مرکز میں شروع ہوا ہے اور 3 فروری 2026ء (14 بہمن) تک جاری رہے گا۔
اس سال کے میلے کا نعرہ ہے: "مطالعہ کا ایک گھنٹہ ترک کرنا؛ صدیوں کی پسماندگی" جبکہ اس بین الاقوامی ادبی ایونٹ میں 83 ممالک سے تعلق رکھنے والے 1457 اشاعتی ادارے شریک ہیں۔/
4331349