ولی خدا کا ظھور بھاری ضمانت اور گروی چاہتا ہے

IQNA

صہیونیوں سے جنگ کا تجزیہ قرآن کے رو سے/ 14

ولی خدا کا ظھور بھاری ضمانت اور گروی چاہتا ہے

12:40 - March 25, 2026
خبر کا کوڈ: 3520094
جس طرح حضرت یعقوبؑ نے بنیامین کو بھیجنے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ اللہ کے نام پر ایک مضبوط عہد و پیمان دیں، اسی طرح منجی کے ظہور کے لیے بھی منتظر امت سے ایک بھاری ضمانت اور مضبوط عہد درکار ہے۔

ایکنا نیوز- حضرت یعقوبؑ کے بیٹوں نے اپنے والد سے کہا: اے ہمارے والد! آپ کو کیا ہوا ہے کہ آپ یوسفؑ کے بارے میں ہم پر اعتماد نہیں کرتے، حالانکہ ہم یقیناً اس کے خیرخواہ ہیں (یوسف: 11)، لیکن انہوں نے امانت میں خیانت کی۔ اسی لیے جب انہوں نے بنیامین کو ساتھ لے جانے کی درخواست کی تو حضرت یعقوبؑ نے فرمایا: کیا میں اس کے بارے میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تم پر اعتماد کیا تھا؟  (یوسف: 64) یعنی تم نے یوسفؑ کے ساتھ کیا کیا تھا کہ اب دوسرے کو مجھ سے مانگ رہے ہو؟

یہی سنتِ الٰہی اوصیائے الٰہی کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ سے منجیِ موعودؑ کے ظہور کی دعا کرتے ہیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہم نے سابقہ اوصیاء، خصوصاً امام حسینؑ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ہم نے ان کی کس طرح نصرت کی؟

حضرت یعقوبؑ نے بنیامین کو بھیجنے کے لیے یہ شرط رکھی: میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر پختہ عہد نہ دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لاؤ گے۔ (یوسف: 66)۔ آج اگر امتِ مسلمہ منجیؑ کے ظہور کی منتظر ہے تو صرف دعا اور دعویٰ کافی نہیں، بلکہ ایک بھاری قیمت اور مضبوط ضمانت پیش کرنا ہوگی۔

امت کو آزمائش سے گزرنا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ثابت قدم ہے؛ جس طرح پہلے فلسطین اور یمن کے عوام کی صبر و استقامت دنیا پر آشکار ہوئی، اسی طرح ایران کے عوام کی شجاعت اور ایمان بھی یومِ قدس کی ریلیوں میں ظاہر ہوا، جب میزائلوں کے گرنے کے دوران بھی لوگوں نے “اللہ اکبر” کے نعرے بلند کیے اور غیر اللہ سے نہ ڈرے، اور یہ ثابت کیا کہ وہ موعودؑ اور اسلامی اقدار کے دفاع میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ہزاروں شہداء کی قربانیاں، چاہے وہ محاذِ جنگ کے مجاہدین ہوں یا تین دن کا معصوم بچہ اور ان خوفناک بمباریوں کے درمیان جو گھروں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے پر برس رہی ہیں، یہ سب ایک طرح سے الٰہی ضمانتوں کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو ہر رات دعا، ذکرِ رسول ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی یاد کے ساتھ شہروں کے میدانوں میں جمع ہوتے ہیں، شاید دل میں یہ سوال کرتے ہوں کہ اللہ کی مدد کیوں نہیں آتی؟ لیکن اگر وہ غور سے سنیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ نصرتِ الٰہی بہت قریب ہے۔ : «أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ» (بقره: 214).

نظرات بینندگان
captcha